اگست کا مہینہ اور پرچموں کی بہار » تفصیلات کے لیے کلک کریں

1

اگست کا مہینہ اور پرچموں کی بہار
آزادی صرف جشن نہیں، ایک ذمہ داری بھی ہے
تحریر: عمر راجپوت جلالپور شریف
اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی پاکستان کے گلی کوچوں، بازاروں، چوکوں، شاہراہوں اور گھروں کی چھتوں پر سبز ہلالی پرچم لہراتے نظر آتے ہیں۔ کہیں سبز و سفید جھنڈیاں سجائی جاتی ہیں، کہیں قومی نغموں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور کہیں بچے ہاتھوں میں پرچم اٹھائے آزادی کی خوشی مناتے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا پاکستان سبز ہلالی پرچم کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔
یہ پرچم صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ہماری پہچان، ہماری آزادی، ہمارے بزرگوں کی قربانیوں اور ایک آزاد وطن کے خواب کی علامت ہے۔ جب ہوا کے دوش پر سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے تو اس کے ساتھ ہمیں اپنے ان بزرگوں کی یاد بھی آتی ہے جنہوں نے پاکستان کے حصول کے لیے اپنا گھر بار، مال و دولت، آرام و سکون اور حتیٰ کہ اپنی جانیں تک قربان کر دیں۔
14 اگست 1947ء ہماری تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں کی طویل جدوجہد اپنے مقصد تک پہنچی اور پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا۔ یہ آزادی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ایک عظیم نظریے، مسلسل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کا ثمر تھی۔
آج ہم آزاد فضا میں سانس لیتے ہیں، اپنی عبادات ادا کرتے ہیں، اپنی زبان بولتے ہیں، اپنی ثقافت کو زندہ رکھتے ہیں اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق رکھتے ہیں تو ہمیں ان لوگوں کو نہیں بھولنا چاہیے جنہوں نے اس آزادی کی قیمت اپنے خون سے ادا کی۔
پرچموں کی بہار اور ہمارا فرض
اگست میں پرچموں کی بہار یقیناً ایک خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔ بازاروں میں سبز و سفید جھنڈیاں، عمارتوں پر قومی پرچم، بچوں کے لباس اور ہاتھوں میں سبز ہلالی نشان، گاڑیوں پر پرچم اور رات کے وقت روشنیاں ایک دلکش سماں پیدا کرتی ہیں۔
مگر ہمیں خود سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا وطن سے محبت صرف پرچم لہرانے، قومی نغمے سننے اور 14 اگست کو سبز لباس پہننے تک محدود ہے؟
ہرگز نہیں۔
وطن سے محبت دراصل ایک ذمہ داری کا نام ہے۔ اگر ہم اپنے ملک کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایک طالب علم دل لگا کر تعلیم حاصل کرے، استاد ایمانداری سے تعلیم دے، ڈاکٹر مریض کے ساتھ خلوص کا مظاہرہ کرے، تاجر دیانت داری سے کاروبار کرے، سرکاری ملازم عوام کی خدمت کو اپنا فرض سمجھے، صحافی حق اور سچ کی آواز بلند کرے اور عام شہری قانون کی پابندی کرے تو یہی پاکستان سے حقیقی محبت ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان کو کرپشن، ناانصافی، بدعنوانی، مہنگائی، جہالت اور بے روزگاری سے نجات ملنی چاہیے۔ لیکن تبدیلی صرف حکومتوں سے نہیں آتی، تبدیلی معاشرے کے ہر فرد کے کردار سے آتی ہے۔
اگر ہم رشوت کو برا سمجھتے ہیں لیکن اپنا کام نکلوانے کے لیے رشوت دینے پر تیار ہیں، ملاوٹ کی مذمت کرتے ہیں لیکن اپنے کاروبار میں ملاوٹ کرتے ہیں، قانون کی بالادستی چاہتے ہیں لیکن خود ٹریفک قوانین کی پابندی نہیں کرتے، صفائی کی بات کرتے ہیں لیکن سڑکوں اور گلیوں میں کچرا پھینکتے ہیں تو ہمیں اپنے رویوں کا جائزہ لینا ہوگا۔
آزادی کی قدر وہی جانتا ہے جو قربانی کی داستان جانتا ہے
آج کی نوجوان نسل کے لیے آزادی شاید ایک معمول کی چیز بن چکی ہے۔ انہیں یہ اندازہ نہیں کہ پاکستان کے قیام کے وقت ہمارے بزرگوں نے کن مشکلات کا سامنا کیا تھا۔
ہجرت کے قافلے، بچھڑتے خاندان، اجڑتے گھر، لٹے ہوئے قافلے، آنکھوں میں آنسو اور دل میں ایک آزاد وطن کی امید—یہ سب ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔
ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں ایک آزاد ملک ملا۔ مگر اس آزادی کی قدر اسی وقت ہوگی جب ہم اس ملک کو مضبوط، خوشحال، پرامن اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں بتانا چاہیے کہ 14 اگست کو پاکستان بنا تھا، بلکہ یہ بھی بتانا چاہیے کہ پاکستان کیوں بنایا گیا تھا، اس کے قیام کے مقاصد کیا تھے اور ہمارے بزرگوں نے اس کے لیے کیا قربانیاں دیں۔
جشن ضرور منائیں، مگر ذمہ داری کے ساتھ
جشن آزادی منانا ہمارا حق بھی ہے اور خوشی کا موقع بھی۔ مگر جشن کے نام پر دوسروں کے لیے تکلیف پیدا کرنا حب الوطنی نہیں۔ موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکال کر شور کرنا، خطرناک انداز میں ون ویلنگ کرنا، ہوائی فائرنگ کرنا یا سڑکوں پر ٹریفک کے لیے مشکلات پیدا کرنا آزادی کا جشن نہیں بلکہ دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا ہے۔
ہمیں اپنے جشن کو ایسا بنانا چاہیے جس سے کسی دوسرے شہری کو تکلیف نہ ہو۔ قومی پرچم کی عزت بھی ضروری ہے۔ اسے زمین پر پھینکنے، پاؤں تلے روندنے یا بے احتیاطی سے استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
ہمیں اپنے بچوں کو یہ سبق دینا ہوگا کہ سبز ہلالی پرچم ہماری قومی عزت ہے، اسے احترام کے ساتھ تھامنا اور لہرانا چاہیے۔
آج کا پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں
پاکستان آج کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ معاشی مشکلات، بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم اور صحت کے مسائل سمیت مختلف مشکلات ہمارے سامنے ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ زندہ قومیں مشکلات سے گھبرایا نہیں کرتیں بلکہ متحد ہو کر ان کا مقابلہ کرتی ہیں۔
ہمیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہوگا۔ اختلافِ رائے کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے برداشت اور مکالمے کو فروغ دینا ہوگا۔
پاکستان صرف سیاست دانوں، حکمرانوں یا اداروں کا نام نہیں۔ پاکستان ہم سب کا ہے۔ کسان بھی پاکستان ہے، مزدور بھی پاکستان ہے، استاد بھی پاکستان ہے، طالب علم بھی پاکستان ہے، صحافی بھی پاکستان ہے اور وہ عام شہری بھی پاکستان ہے جو صبح اپنے گھر سے نکل کر رزق حلال کی تلاش میں محنت کرتا ہے۔
اگر ہر شخص اپنے حصے کا چراغ روشن کردے تو ملک ترقی کی روشنی سے منور ہوسکتا ہے۔
پرچم بلند رہے، پاکستان بلند رہے
اگست کے مہینے میں جب سبز ہلالی پرچم ہمارے گھروں کی چھتوں پر لہراتا ہے تو ہمیں یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم اپنے وطن کی عزت، سلامتی اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
ہم اپنے بچوں کو تعلیم دیں گے، نوجوانوں کو ہنر سکھائیں گے، خواتین کو عزت اور مواقع فراہم کریں گے، غریب کا سہارا بنیں گے، قانون کی پاسداری کریں گے، درخت لگائیں گے، صفائی کا خیال رکھیں گے اور اپنے معاشرے میں نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دیں گے۔
کیونکہ پاکستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، یہ ہمارے بزرگوں کے خوابوں کی تعبیر ہے۔
آئیے اس اگست میں صرف گھروں پر پرچم نہ لگائیں بلکہ اپنے دلوں میں بھی پاکستان کی محبت کا پرچم بلند کریں۔ صرف قومی نغمے نہ گائیں بلکہ اپنے کردار سے وطن کی عزت بڑھائیں۔ صرف آزادی کا جشن نہ منائیں بلکہ آزادی کی ذمہ داری بھی سمجھیں۔
پرچموں کی یہ بہار ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پاکستان ہماری پہچان ہے، ہماری امید ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، اسے امن، خوشحالی، ترقی اور استحکام عطا فرمائے اور ہمیں ایک ذمہ دار، باکردار اور محب وطن پاکستانی بننے کی توفیق دے۔
پاکستان زندہ باد!
پاکستان پائندہ باد!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں