لالچ بری بلا — جب ضرورت خواہش اور خواہش حرص بن جائے

7

لالچ بری بلا — جب ضرورت خواہش اور خواہش حرص بن جائے
تحریر: احسان نازش پاہڑیانوالی
دنیا میں انسان کو تباہ کرنے والی بہت سی چیزیں ہیں، مگر ان میں سب سے خطرناک چیز وہ لالچ ہے جو بظاہر انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتی دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں اسے سکون، عزت، رشتوں اور انسانیت سے دور لے جاتی ہے۔ لالچ ایک ایسی خاموش بیماری ہے جس کی ابتدا معمولی سی خواہش سے ہوتی ہے اور پھر یہی خواہش بڑھتے بڑھتے حرص کا روپ دھار لیتی ہے۔ انسان کے پاس ایک گھر ہو تو دوسرا چاہیے، ایک کاروبار ہو تو دوسرا، ایک زمین ہو تو مزید زمین، عزت ہو تو اقتدار، اور دولت ہو تو اس سے بھی زیادہ دولت۔ مسئلہ یہ نہیں کہ انسان ترقی کیوں کرنا چاہتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ وہ ترقی کی دوڑ میں کب انسانیت کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں آج لالچ ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک اجتماعی رویہ بنتا جا رہا ہے۔ ہر شخص دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں ہے۔ کوئی دولت میں، کوئی کاروبار میں، کوئی عہدے میں اور کوئی شہرت میں۔ مقابلہ اگر صحت مند ہو تو معاشرے کو آگے لے جاتا ہے، مگر جب مقابلہ حسد اور لالچ میں بدل جائے تو پھر یہی ترقی معاشرتی بگاڑ کا سبب بن جاتی ہے۔
لالچ کی کوئی حد نہیں
لالچی انسان کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اسے کبھی “بس” کہنا نہیں آتا۔ اسے جتنا ملتا ہے، اتنا ہی کم محسوس ہوتا ہے۔ دس روپے ملیں تو سو کی خواہش، سو ملیں تو ہزار کی فکر اور ہزار مل جائیں تو لاکھوں کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔
ایک بزرگ کا قول ہے کہ ضرورت مند کی خواہش پوری ہو سکتی ہے، مگر لالچی کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوتی۔
یہی حقیقت آج ہمارے معاشرے میں جگہ جگہ نظر آتی ہے۔ بعض لوگ اپنی ضرورت سے کہیں زیادہ حاصل کرنے کے باوجود مطمئن نہیں ہوتے۔ دوسروں کے حصے پر نظر، دوسروں کی زمین پر نظر، دوسروں کے کاروبار پر نظر اور کبھی کبھی تو اپنے ہی بھائی کے حق پر نظر۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے لالچ کو کامیابی کا نام دینا شروع کر دیا ہے۔
وراثت اور زمین کے جھگڑے
ہمارے دیہی معاشرے میں زمین اور جائیداد کے معاملات اکثر رشتوں کی مضبوطی کا امتحان بن جاتے ہیں۔ باپ کی زندگی میں جو اولاد ایک دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھاتی ہے، وہی بعض اوقات باپ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد چند مرلوں یا ایک ٹکڑے زمین کے لیے ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔
کبھی بھائی بھائی سے ناراض، کبھی بہن اپنے حق سے محروم، کبھی یتیم بچوں کا حصہ دبانے کی کوشش اور کبھی بزرگ والدین کی زندگی بھر کی کمائی پر قبضے کی خواہش۔ سوال یہ ہے کہ چند گز زمین کے لیے اگر دلوں میں فاصلے پیدا ہو جائیں تو ایسی دولت آخر کس کام کی؟
زمین انسان کے لیے نہیں بنی، انسان زمین کے لیے پیدا نہیں ہوا۔ آج ہماری ملکیت میں جو زمین ہے، کل وہ کسی اور کے پاس ہو گی۔ اصل ملکیت تو انسان اپنے اعمال کی ساتھ قبر میں لے کر جاتا ہے۔
کاروبار میں لالچ
کاروبار میں منافع کمانا کوئی برائی نہیں۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کا کاروبار ترقی کرے اور اسے محنت کا اچھا صلہ ملے۔ لیکن جب منافع کی خواہش ناجائز منافع خوری، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، دھوکہ دہی اور جھوٹ میں تبدیل ہو جائے تو پھر کاروبار عبادت نہیں رہتا بلکہ دوسروں کے استحصال کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
کچھ لوگ چند روپے زیادہ کمانے کے لیے چیز کا معیار گرا دیتے ہیں، وزن کم کر دیتے ہیں یا مصنوعی مہنگائی پیدا کر دیتے ہیں۔ شاید انہیں فوری فائدہ مل جاتا ہے، لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بازار میں چیز کا صرف ریٹ نہیں بکتا، اعتبار بھی بکتا ہے۔
ایک بار گاہک کا اعتماد ختم ہو جائے تو بڑی سے بڑی دکان بھی چھوٹی ہو جاتی ہے۔
سیاست اور اقتدار کی ہوس
لالچ صرف دولت تک محدود نہیں۔ اقتدار اور عہدے کی خواہش بھی جب حد سے بڑھ جائے تو انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔ کچھ لوگ خدمت کے نام پر سیاست میں آتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ خدمت پیچھے رہ جاتی ہے اور عہدہ، اختیار اور ذاتی مفاد آگے آ جاتا ہے۔
اصل سیاسی خدمت یہ ہے کہ انسان اپنے علاقے کے لوگوں کے مسائل حل کرے، کمزور کی آواز بنے، میرٹ اور انصاف کی بات کرے اور عوامی وسائل کو امانت سمجھے۔ لیکن اگر سیاست صرف ذاتی مفاد، عہدے اور اثر و رسوخ کا ذریعہ بن جائے تو پھر عوام اور نمائندے کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
رشتے بھی لالچ کی نذر ہو رہے ہیں
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لالچ نے ہمارے رشتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ پہلے خاندان میں محبت، خلوص اور لحاظ ہوا کرتا تھا۔ آج بعض اوقات رشتہ بھی فائدے اور نقصان کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔
جس رشتے سے فائدہ ہو، اس سے قربت؛ جس سے فائدہ نہ ہو، اس سے دوری۔ یہ رویہ معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ دولت دوبارہ کمائی جا سکتی ہے، مگر ٹوٹا ہوا اعتماد اور ختم ہو جانے والا رشتہ ہر بار واپس نہیں آتا۔
سوشل میڈیا اور دکھاوے کی دوڑ
سوشل میڈیا نے بھی لالچ اور نمود و نمائش کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ کسی کے پاس نئی گاڑی آئے تو دوسرے کو اپنی گاڑی کم لگنے لگتی ہے۔ کوئی بیرون ملک جائے تو دوسرا بھی جانے کے لیے بے چین ہو جاتا ہے۔ کسی کا کاروبار کامیاب ہو تو دوسرا اپنی ناکامی چھپانے کے لیے دکھاوے کی دنیا آباد کر لیتا ہے۔
ہم نے خوشی کو بھی مقابلہ بنا دیا ہے۔
ضرورت سے زیادہ خرچ، قرض لے کر دکھاوا، دوسروں کو متاثر کرنے کی کوشش اور ہر وقت یہ سوچنا کہ “لوگ کیا کہیں گے” انسان کو ذہنی دباؤ اور مالی مشکلات کی طرف لے جاتا ہے۔
قناعت کمزوری نہیں
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قناعت کا مطلب ترقی چھوڑ دینا نہیں۔ قناعت کا مطلب یہ ہے کہ انسان محنت ضرور کرے، آگے بڑھنے کی کوشش ضرور کرے، مگر حلال و حرام، جائز و ناجائز اور اپنے حق و دوسرے کے حق میں فرق نہ بھولے۔
جس شخص کے دل میں قناعت ہو، وہ چھوٹے گھر میں بھی سکون سے رہ سکتا ہے۔ اور جس کے دل میں لالچ ہو، وہ بڑے محل میں رہ کر بھی بے سکون رہتا ہے۔
سکون بینک بیلنس سے نہیں، دل کے اطمینان سے پیدا ہوتا ہے۔
لالچ انسان کو اکیلا کر دیتا ہے
لالچی انسان شاید دولت جمع کر لے، مگر اکثر دلوں میں جگہ کھو دیتا ہے۔ لوگ اس سے تعلق رکھنے کے بجائے اس سے بچنے لگتے ہیں۔ کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ لالچی انسان جہاں اپنا فائدہ دیکھے گا، وہاں رشتے، دوستی اور اصول بھی قربان کر سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض دولت مند لوگ بے شمار وسائل رکھنے کے باوجود تنہائی کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ کچھ غریب لوگ محدود وسائل میں بھی پورے محلے کے دلوں میں بستے ہیں۔
فرق دولت کا نہیں، کردار کا ہوتا ہے۔
نئی نسل کی تربیت
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بہتر ہو تو ہمیں اپنی نئی نسل کی تربیت کرنا ہو گی۔ بچوں کو صرف یہ نہ سکھائیں کہ بڑا ہو کر زیادہ پیسہ کمانا ہے، بلکہ یہ بھی سکھائیں کہ پیسہ حلال طریقے سے کمانا ہے۔
انہیں بتائیں کہ کامیابی صرف مہنگی گاڑی، بڑا مکان اور بیرون ملک سفر کا نام نہیں۔ کامیابی یہ بھی ہے کہ انسان کسی کا حق نہ مارے، جھوٹ نہ بولے، والدین کا احترام کرے، ضرورت مند کی مدد کرے اور اپنی محنت سے روزی کمائے۔
آخر میں ایک سوال
ہم سب کو اپنے آپ سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے:
اگر آج ہمارے پاس سب کچھ آ جائے تو کیا ہم پھر بھی مطمئن ہو جائیں گے؟
اگر جواب “نہیں” ہے تو شاید مسئلہ ہماری ضرورت میں نہیں بلکہ ہماری خواہش میں ہے۔
دنیا کی دولت کبھی ختم نہیں ہوتی، مگر انسان کی زندگی ضرور ختم ہو جاتی ہے۔ جس دولت کے لیے انسان ساری عمر بھاگتا ہے، ایک دن وہی دولت پیچھے رہ جاتی ہے اور انسان خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔
اس لیے محنت کریں، ترقی کریں، دولت کمائیں، اپنے بچوں کا مستقبل سنواریں، مگر کسی کا حق نہ ماریں۔ اپنے حصے کی خوشی قبول کریں اور دوسروں کی خوشیوں سے حسد نہ کریں۔
لالچ بری بلا ہے۔
یہ پہلے انسان کی آنکھوں پر پردہ ڈالتی ہے، پھر دل سے سکون چھینتی ہے، رشتوں میں دراڑ ڈالتی ہے، کردار کو کمزور کرتی ہے اور آخرکار انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں بہت کچھ ہونے کے باوجود وہ اندر سے خالی ہوتا ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اپنی زندگی لالچ کے پیچھے بھاگ کر گزارنا چاہتے ہیں یا قناعت، دیانت اور انسانیت کے ساتھ؟
وقت گزرنے کے بعد شاید ہمارے پاس دولت کم یا زیادہ ہو، لیکن لوگوں کے دلوں میں ہماری جو تصویر بنے گی، وہ ہمارے کردار سے بنے گی۔
دولت انسان کی پہچان نہیں، کردار انسان کی اصل پہچان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں