پنڈ دادنخان کا نمک آج حلال ہو گیا
تحریرکالم
عمر راجپوت، جلالپور شریف
قدرت جب کسی خطے پر مہربان ہوتی ہے تو اسے بے شمار نعمتوں سے نوازتی ہے، مگر ہر نعمت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس کا فائدہ سب سے پہلے اس دھرتی کے باسیوں کو نہ پہنچے۔ پنڈ دادنخان بھی پاکستان کا ایک ایسا تاریخی اور قدرتی وسائل سے مالا مال علاقہ ہے جسے قدرت نے کھیوڑہ کی نمک کی کانوں، چونے کے پتھر، جپسم، کوئلے اور دریائے جہلم جیسی بے مثال دولت عطا کی، لیکن بدقسمتی سے اس خطے کے عوام دہائیوں تک اپنے ہی وسائل سے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہ کر سکے۔
کھیوڑہ کا نمک صدیوں سے دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے۔ سکندر اعظم کے زمانے سے لے کر آج تک یہاں سے نکلنے والا نمک دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچتا رہا ہے۔ اسی نمک نے پنڈ دادنخان اور للہ کی منڈیوں کو شہرت بخشی، صنعتوں کو فروغ دیا اور ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کیا، مگر اس دولت کے باوجود مقامی عوام بنیادی سہولیات، روزگار، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی حقوق کے لیے ترستے رہے۔
اسی دھرتی سے نکلنے والے چونے کے پتھر، جپسم اور کوئلے نے غریب وال سیمنٹ، ڈنڈوٹ سیمنٹ اور سوڈا ایش جیسی بڑی صنعتوں کو جنم دیا۔ موٹروے اس علاقے سے گزر گئی، ریلوے لائنوں پر معدنیات سے بھری مال گاڑیاں دوڑتی رہیں، مگر مقامی نوجوان روزگار کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور رہے۔ انجینئرنگ یونیورسٹی کے کیمپس کے لیے زمین مختص ہونے کے باوجود یہ خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ برطانوی دور میں بھی اس خطے کے وسائل سے فائدہ اٹھایا گیا، مگر ترقی کے ثمرات یہاں کے عوام تک نہ پہنچ سکے۔ دریائے جہلم پر پل تعمیر ہوئے، معدنیات کی ترسیل کے راستے بنائے گئے، لیکن آبپاشی کے منصوبوں میں اس علاقے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا۔ بعد ازاں سندھ طاس معاہدے کے بعد دریائے جہلم کا پانی ملک کے دیگر علاقوں تک تو پہنچا، مگر جہلم کے کنارے بسنے والے لوگ کئی دہائیوں تک اپنے ہی دریا کے پانی سے محروم رہے۔ یہ ایک ایسا سوال تھا جس نے ہر باشعور شہری کو سوچنے پر مجبور کیا کہ آخر قدرتی وسائل پر پہلا حق کس کا ہونا چاہیے؟
اس دھرتی کے سپوتوں نے بھی ہمیشہ وطن پر اپنی جانیں نچھاور کیں۔ 1965ء، 1971ء اور کارگل سمیت ہر قومی معرکے میں پنڈ دادنخان کے جوانوں نے بہادری کی نئی داستانیں رقم کیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اس علاقے کے نوجوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، مگر افسوس کہ ان کے اپنے کئی دیہات آج بھی بنیادی سہولیات اور صاف پانی جیسی نعمت سے محروم رہے۔
اس علاقے نے گورنر، جرنیل، چیف جسٹس، اعلیٰ بیوروکریٹس، صنعت کار اور سرمایہ کار پیدا کیے، لیکن اکثر اپنے آبائی علاقوں کی ترقی کے لیے وہ کردار ادا نہ ہو سکا جس کی عوام کو امید تھی۔ سیاسی نمائندگی بھی اکثر ایسی رہی جو عوام کے دکھ درد سے زیادہ اقتدار کی سیاست تک محدود رہی۔ یہی وجہ ہے کہ محرومی کا احساس وقت کے ساتھ گہرا ہوتا چلا گیا۔
ایسے حالات میں جلالپور کینال کا منصوبہ صرف ایک نہر نہیں بلکہ اس خطے کی دہائیوں پر محیط جدوجہد، صبر اور امید کی علامت بن کر سامنے آیا۔ آج جب اس نہر میں پانی رواں ہے تو کسان کی آنکھوں میں امید، بنجر زمینوں میں زندگی اور نوجوانوں کے دلوں میں ایک نئے مستقبل کی آس دکھائی دیتی ہے۔ یہ منصوبہ اس اصول کی عملی مثال بھی ہے کہ دریائے جہلم کا پانی سب سے پہلے جہلم کی دھرتی کا حق ہے۔
یقیناً جلالپور کینال تمام مسائل کا حل نہیں، لیکن یہ اس جانب ایک مضبوط قدم ضرور ہے جہاں پنڈ دادنخان کو اس کا جائز حق ملنا شروع ہوا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس منصوبے کے ثمرات ہر کسان، ہر گاؤں اور ہر گھر تک پہنچیں، مزید ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں، صنعتوں میں مقامی نوجوانوں کو روزگار دیا جائے، تعلیمی ادارے قائم ہوں اور صحت کی سہولیات بہتر بنائی جائیں تاکہ اس خطے کی محرومیوں کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔
آج جلالپور کینال کے کنارے کھڑے ہو کر دل سے ایک ہی آواز نکلتی ہے کہ “پنڈ دادنخان کا نمک واقعی حلال ہو گیا۔” یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ اس سرزمین کے لوگوں کی صدیوں پر محیط قربانیوں، صبر اور جدوجہد کا اعتراف ہے۔ امید ہے کہ یہ آغاز ہے، منزل نہیں، اور آنے والے دنوں میں پنڈ دادنخان اپنی حقیقی ترقی، خوشحالی اور وقار کی منزل ضرور حاصل کرے گا۔
دریا ہمارا ہے، اور اس کے پانی پر سب سے پہلا حق بھی اسی دھرتی کے لوگوں کا ہے۔
قدرت جب کسی خطے پر مہربان ہوتی ہے تو اسے بے شمار نعمتوں سے نوازتی ہے،
11