منڈی بہاوالدین شہر اور گردونواح میں ضلعی انتظامیہ کی نااہلی، مجرمانہ غفلت اور خاموش تماشائی بنے رہنے کے باعث آٹے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، جبکہ غریب عوام دو وقت کی روٹی کے لیے دربدر ہو چکی ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق 10 کلو آٹے کا تھیلا 1200 روپے جبکہ 15 کلو کا تھیلا 1800 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، مگر انتظامیہ خوابِ غفلت میں مبتلا دکھائی دیتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ناجائز منافع خوروں، ذخیرہ اندوز مافیا اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دے کر ضلعی انتظامیہ نے اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں چرا لی ہیں۔ عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر پرائس کنٹرول مجسٹریٹس، مارکیٹ کمیٹیاں اور متعلقہ افسران کس مرض کی دوا ہیں؟ اگر غریب آدمی کے بچوں کے منہ سے نوالہ چھین لیا جائے اور انتظامیہ صرف خاموش بیانات تک محدود رہے تو یہ عوام کے ساتھ کھلا ظلم اور ناانصافی ہے۔
شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے، بصورت دیگر عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے اور اس تمام صورتحال کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
یونس شاہد
منڈی بہاؤالدین وزیرعلی پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات کی دھجیاں اڑا دی گئی روٹی مہنگی آٹا مہنگا
7