اسلام آباد میں بڑا سیاسی ہنگامہ؟ اہم راستے بند، حکومت نے بڑا قدم اٹھا لیا!
اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے آئندہ احتجاجی مارچوں کے پیشِ نظر سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق دارالحکومت کے ریڈ زون کی جانب جانے والی اہم شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی تیاری کر رکھی ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے بھی 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پی ٹی آئی اپنے بانی عمران خان کی رہائی سمیت دیگر مطالبات کے لیے احتجاج کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کی قیادت نے اسلام آباد مارچ کے لیے دو تجاویز پر غور کیا ہے، جن میں کراچی سے ٹرین مارچ کے ذریعے لاہور پہنچ کر اسلام آباد جانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ جماعت اسلامی کا احتجاج بنیادی طور پر پیٹرولیم لیوی کے خلاف ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بھی قرار دے چکی ہے کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو سڑکیں، شاہراہیں یا عوامی مقامات بند کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں، جبکہ صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ احتجاجی مارچوں میں سرکاری وسائل اور مشینری استعمال نہ ہونے دی جائے۔ عدالت نے شہریوں کی نقل و حرکت سمیت آئینی حقوق کے تحفظ کی بھی ہدایت کی ہے۔
حکومت کی جانب سے احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے احتجاجی پروگرام پر قائم ہیں۔ آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیوں اور سکیورٹی صورتحال پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔