آبنائے ہرمز کے قریب واقع لارک جزیرے پر اتوار کی شام امریکی حملے نے ایک بار پھر خلیج کے ساحل کے ساتھ واقع ایرانی جزیروں کی سٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔
جولائی کے بعد اپنی پہلی براہِ راست کارروائی میں امریکہ نے اعلان کیا کہ اس نے لارک جزیرے پر میزائل داغنے کے دو مقامات کو نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ انہوں نے قطر اور متحدہ عرب امارات میں ایک، ایک فوجی اڈے جبکہ اردن میں تین فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے جوابی کارروائیاں کیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس میں جزیرہ لارک کو مکمل طور پر تباہ ہوتے دکھایا گیا ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ ایران سٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے ان جزیروں کو استعمال کر رہا ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی اسی آبنائے سے گزرتی تھی۔
اسی لیے ذیل میں ایران کے تین نمایاں جزیروں کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے، جن میں سے دو سٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں۔
لارک جزیرہ
لارک جزیرہ آبنائے ہرمز کے تنگ ترین مقام پر واقع ہے۔ یہ سٹریٹجک اہمیت کی حامل بندرگاہ بندر عباس کے ساحل کے قریب، جزیرہ قشم کے مشرق اور جزیرہ ہرمز کے جنوب میں واقع ہے۔
جزیرے کا نام ’اراک‘ نامی درخت سے منسوب ہے، جو یہاں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے اور جس سے مسواک تیار کی جاتی ہے۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق تقریباً 75 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے اس جزیرے پر ایک فوجی تنصیب بھی موجود ہے۔ امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق جزیرے کو انتہائی مضبوط دفاعی حصار حاصل ہے، جس کی وجہ سے اسے نشانہ بنانا مشکل ہے۔
ایران آبنائے ہرمز کی نگرانی اور اس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے لارک جزیرے کو استعمال کرتا ہے۔ یہاں بنکرز کا ایک نیٹ ورک اور حملہ آور کشتیاں موجود ہیں، جو مال بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
سنہ 1987 سے یہ جزیرہ تیل کی برآمد کے ایک اہم مرکز کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔