دل نہیں تھا کہ اس ٹاپک پہ طبع آزمائی کروں لیکن عورت کو صرف ایک سیکس آبجیکٹ سمجھنے والے چند بیمار ذہنوں نے ایک طوفان بد تمیزی برپا کیا ھوا ھے اتنا غیر مہذب معاشرہ خد کی پناہ ۔
غریدہ کے پاس ایسا کیا ھے جو باقی خواتین کے پاس نہیں ؟؟ جہاں تک بات اس کے پچھواڑے میں ڈریس پھسنے کی ھے تو جو لوگ تبصرے کر رھے ھیں کیا ان لوگوں نے اپنے گھر میں اپنی خواتین کا کام کرتے جانے انجانے میں ڈریس پھسا ھوا نہیں دیکھا ؟؟ یہ ایسا کونسا انہونا کام ھو گیا ھے جو پہلے کبھی وقوع پزیر نہیں ھوا ؟؟
کوئی کیا پہنتا ھے کیا کھاتا ھے اس کے سیاسی مذہبی نظریات کیا ھیں یہ صرف اس انسان کا حق ھے مرد ھو یا عورت یہ سب کو یہ حق حاصل ھے ۔ ہم جنس کی بنیاد پہ کسی کو تضیحک کا نشانہ نہیں بنا سکتے ۔ عورت اپنی ذات میں ایک مکمل ہستی ھے اس کا اپنا ایک وجود ھے اس کی اپنی ذاتی پسند ناپسند ھے ۔
دنیا میں جنگ لگی ھوئی انسانیت سسک رھی ھے اور ھماری قوم ساری توانائیاں پچھواڑے پہ صرف کر رھی ھے اور جب کہ یہ عام سی بات ھے ۔ کیا مردوں کی قیمض پیچھے کبھی نہی پھسی ؟؟ کیا کچھ مرد بیٹھے ھوے ٹتول ٹتول کے اپنا سامان پورا نہیں کر رھے ھوتے ان کا کیا پھسا ھوتا ھے ؟
انسان بن جائیں عورت کو انسان سمجھیں نا کے سیکس آبجیکٹ جس طرح آپ کی عورت آپ کے لیے قابل عزت ھے ایسے ھی حوا کی ہر بیٹی عزت کا حق رکھتی ھے۔
سیف اللہ وارائچ ایڈوکیٹ
عورت اپنی ذات میں ایک مکمل ہستی ھے اس کا اپنا ایک وجود ھے اس کی اپنی ذاتی پسند ناپسند ھے ۔
41