50

آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ملک میں پہلی اسپیشل عدالت قائم کر دی گئی ہے

آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ملک میں پہلی اسپیشل عدالت قائم کر دی گئی ہے
آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت قائم ملک کی پہلی اسپیشل عدالت نے سائفر کیس میں وائس چیئرمین تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کا 4 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ملک میں پہلی اسپیشل عدالت قائم کر دی گئی ہے جس میں سائفر کیس میں گرفتار وائس چیئرمین پاکستان تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کو پیش کیا گیا،آفیشل سیکریٹ ایکٹ عدالت کا اضافی چارج انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو سونپا گیا، جج ابوالحسنات نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمے کی سماعت کی۔ ملک بھر میں ابھی تک آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی ایک عدالت قائم کی گئی جو اسلام آباد میں ہے، قانون کے مطابق آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت ان کیمرا ہو گی۔ ذرائع کےمطابق سائفر کیس میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ عدالت میں کچھ دیر بعد پیش کیا گیا،اسپیشل عدالت کے جج ابوالحسنات نے غیرمتعلقہ افراد کو کمرہ عدالت سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا معاملہ ہے، غیرمتعلقہ افراد باہر چلے جائیں۔ کمرہ عدالت میں وکلا شاہ محمود قریشی کے وکیل شعیب شاہین، انتظار پنجوتھا، گوہر علی اور علی بخاری موجود تھے جبکہ پی ٹی آئی کے جونیئر وکلا کو بھی کمرہ عدالت سے نکال دیا گیا ہے،وکیل شعیب شاہین نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے سے تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی اور بار بار جسمانی ریمانڈکی مخالفت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں