149

منڈی بہاوالدین تنظیمیں تاجر اور ،صحافی ذاتی مفادات تک محدود ہیں،رٹ نیوز کی مکمل رپورٹ پڑھنے کے لیے کلک کریں

1۔ڈسٹرکٹ جیل منڈی بہاؤالدین میں بارش کا پانی داخل ،تمام قیدی و سٹاف حافظ آباد و گجرات کی جیلوں میں منتقل
2۔گندم کے سرکاری گودام میں بارش کا پانی داخل، گندم تباہ و برباد، گندم بھی گودام سے منتقل
3۔تھانہ سٹی،سی آئی اے،تھانہ صدر کو جانے والا راستہ بارش کے پانی سے تالاب کا منظر پیش کر رہا ہے،پولیس ملازمین اور سائلین کو آنے جانے میں مشکل کا سامنا،
* تھانہ صدر کی بلڈنگ میں بارش کا پانی داخل۔
*تھانہ صدر کی عمارت میں کوئی وقوعہ سرزد ہونے پر مقدمہ تھانہ سٹی میں درج ہو گا۔
4۔نکاسی آب کا مناسب بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے بارشوں میں پورا شہر ندی نالے کا منظر پیش کرتا ہے۔
5۔تھوڑی سی بارش ہو بجلی بند،خرابی کی صورت میں دنوں تک بجلی کی بحالی ناممکن،ملازمین کی کمی،ٹرانسفارمر جل گیا،شہری جیب سے پیسے دے کر ٹھیک کروائیں گے،میٹر لگوانا ہے،رشوت دیں۔
6۔محلہ جات میں صفائی،نکاسی آب، گلیوں کی صفائی، نالیوں،نالوں کی صفائی کا ناقص انتظام۔گلیاں کچی،جو بنی ہیں شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
7۔سوئی گیس کی نئی پائپ لائن نہیں ڈالی جا سکتی، سوئی گیس کا نیا میٹر نہیں لگ سکتا،جب لگ رہے تھے،ڈیمانڈ نوٹس کی الگ رشوت،گوڈے کی الگ۔ جبکہ سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ عروج پر ہے۔
8۔ہسپتال میں نہ دوائی،نہ ڈاکٹر ،نہ وینٹیلیٹر،نہ جدید مشینری،نہ ایکسرے شیٹ،بس لاہور لے جاو۔صرف میڈیکل رشوت دے کر مرضی کا بنوائیں۔
9۔پاسپورٹ رشوت کے بنا نہیں بن سکتا ہے۔
10۔ڈرائیونگ لائسنس رشوت کے بنا نہیں بن سکتا ہے۔
11۔شہر میں ناجائز تجاوزات کی بھر مار
12۔منشیات فروشی عروج پر
13۔جسم فروشی عروج پر
14۔ناجائز اسلحہ کی بھرمار
15۔ڈکیتیاں ، چوریاں عروج پر
16۔روزانہ قتل کی واردات معمول
17۔سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار
18۔یونین کونسلوں کے سیکرٹریوں کی کرپشن عروج پر
19۔زرد صحافت عروج پر
20۔جھوٹے مقدمات معمول
21۔ہر جائز ناجائز کام بنا رشوت ممکن نہیں، ہر ادارے میں ہر کام کی رشوت فکس ہے۔
22۔منڈی بہاؤالدین افسروں و ملازمین کی جنت ، کھاو ،پیو ،موج اڑاو،مال بناو،گھر جاو۔ کام صرف خبروں اور فوٹو / ویڈیو سیشن تک، کونسا افسران کا اپنا ضلع ہے، اور نہ ہی کسی نے پوچھنا ہے، بس انچارج سیاسی لیڈر خوش رکھو اور جو مرضی کرو ۔
23۔یونیورسٹی صرف کاغذات میں
24۔ سیاست دان بھی ضلع کے وارث نہیں ہیں، کیونکہ آج ہماری حکومت ہے ،کل تمہاری حکومت ہو گی،مخالف کے ترقیاتی کام روک دو،مخالف کے خلاف ہر حربہ استعمال کرو،ضلع کی تعمیر و ترقی کے لیے ٹائم ہی نہیں ہے،نہ سوچ ہے، کہ یہ ہمارا ضلع ہے، اگر سیاسی مخالف نے کام شروع کروایا ہے، میں مکمل کروا لوں ،کیونکہ میرے ضلع کی بہتری ہے،لیکن نہیں، کام بند۔
25۔یوٹیلیٹی سٹورز ملازمین و افسران سبسڈی مل بانٹ کر کھا جاتے ہیں۔
26۔سبزی منڈی شہر سے باہر منتقل نہیں کی جا رہی
27۔غلہ منڈی شہر سے باہر نہیں منتقل کی جا رہی
28۔جنرل بس اسٹینڈ شہر سے باہر نہیں منتقل کیا جا رہا
29۔سیوریج سسٹم بلکل فلاپ ،نئے نکاسی آب کے سسٹم کے متعلق نہیں سوچا جا رہا ہے۔
30۔کچرا شہر کے نزدیک کی کندھانوالہ اور کٹھیالہ سیداں کے درمیان پھینکا جا رہا ہے، جو اہل علاقہ کے لیے درد سر بنا ہوا ہے،کچرا کو تلف کرنے کے لیے مناسب بندوبست نہیں ہے۔
31۔زرعی زمین غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سکیمیں کھا رہی ہیں، غیر منظور ٹاونوں میں نہ گیس،نہ بجلی ،نہ کوئی اور سہولت،لوگ ذلیل وخوار، لیکن ان درجنوں غیر رجسٹرڈ ہاؤسنگ سکیموں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
32۔زمینوں کا ریکارڈ مکمل کمپیوٹرائزڈ نہیں ہے،پٹواری و دیگر عملے نے چور بازاری سرگرم کر رکھی ہے۔
33۔نہروں کی کاغذی بھل صفائی کی وجہ سے چھوٹی نہروں کے بند ٹوٹ کر آبادیوں میں سیلاب جیسی تباہی مچا رہے ہیں۔
نہ ہمارے ضلع کا کوئی وارث ہے ،نہ کوئی اس کی تعمیر و ترقی کے متعلق سوچتا ہے۔ہر ضلع کا ایک ماسٹر پلان ہوتا ہے، جس میں 20 سالہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔لیکن یہاں اندھیر نگری چوپٹ راج کا سلسلہ جاری ہے۔جو چند ایک تنظیمیں بنی ہیں، وہ ذاتی مفادات تک محدود ہیں، ڈمی ماحول بنائے ایکٹ کرتی نظر آتی ہیں۔ادارے جنہوں نے ملک چلانا ہوتا ہے، دفاتر میں بیٹھ کر نقل کرنے میں مصروف ہیں۔
افسران کو بارش اور گٹروں کے گندے پانی میں کھڑا کر کے تصاویر اور ویڈیو منگوانے سے تبدیلی نہیں آئے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں