45

آج بابا گرو نانک کا 553 واں سال جنم دن منایا جا رہا ہے

آج بابا گرو نانک کا 553 واں سال جنم دن
منایا جا رہا ہے اس حوالے سے ایک خصوصی تحریر ”
بابا گرو نانک پنجاب میں تلونڈی نامی گاؤں، جسے اب ننکانہ صاحب کہا جاتا ہے، میں 1469 میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد مہتہ کالو پٹواری تھے اور والدہ ترتپا دونوں ہی نیک و پارسا ہندو تھے۔
نانک حق کے متلاشی تھے، اس لئے کوئی بھی دنیاوی کام ڈھنگ سے نہ کرسکے ، ایک بار ندی میں نہانے گئے تین دن تک ندی میں غائب رہے باہر نکل کر ایک نعرہ لگایا
’نہ کوئی ہندو، نہ کوئی مسلمان۔

شہر میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا کہ یہ کون ہے جو مسلمانوں کی حکومت میں اور ہندؤوں کے شہر میں دونوں کی توہین کر رہا ہے۔ قاضی نے ان کو طلب کیا اور پوچھا کہ ’نانک تم کہتے ہو کہ یہاں نہ کوئی ہندو دکھائی دیتا ہے نہ مسلمان، تو پھر تم کون ہو؟‘
نانک نے جواب دیا کہ ’اگر میں اپنے آپ کو ہندو کہتا ہوں تو وہ مجھے مار دیں گے مگر میں مسلمان بھی نہیں ہوں۔ میں پانچ عناصر کا بنا ہوا پتلا ہوں اور نانک میرا نام ہے
قاضی نے کہا کہ ، ہو سکتا ہے کہ تم اپنے ہندو مذہب کو چھوڑ چکے ہو ، مگر ہم تو پانچ نمازیں ادا کرتے ہیں اور وہ بھی خدا کے حضور میں کھڑے ہو کر، جس پر نانک نے جواب دیا کہ میں بھی دن میں پانچ وقت کی نماز ادا کرتا ہوں
ایک سچ کی،
دوسری حق حلال کی کمائی کی، تیسری خدا کے فضل و کرم کی، چوتھی نیت اور ایمانداری کی
اور پانچویں خدا کی حقیقی یاد کی، اس سے عظیم تر کوئی نماز نہیں

نانک جی جنگلوں، آبادیوں میں گھومتے رہے۔ ان کا نام اب ’گرو‘ کے نام سے مشہور ہو چکا تھا۔ وہ جگہ جگہ معجزے دکھاتے۔ جب وہ ہندوؤں کے مرکز ہردوار پہنچے تو یہاں گنگا میں ہندو نہا رہے تھے اور پانی مشرق کی طرف اچھالتے تھے۔ جب نانک جی نے اس کی وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ یہ پانی مرنے والے بزرگوں کو دیا جا رہا ہے تاکہ ان کی زندگی آسودہ اور ٹھنڈی رہے۔ یہ سن کر نانک جی نے پانی مغرب کی طرف اچھالنا شروع کر دیا۔ لوگ ہنسے لگے کہ کیا کبھی کسی نے مغرب کی طرف بھی پانی اچھالا ہے ؟ تو نانک جی نے جواب دیا کہ ’میرے کھیت یہاں سے مغرب کی طرف پنجاب میں ہیں، میں ان کو یہاں سے پانی دے رہا ہوں۔‘ لوگ کہنے لگے کہ ’اتنی دور سے دیا ہوا پانی آپ کے کھیتوں کو کیسے سر سبز کرے گا ؟ جس پر گرو نانک نے کہا کہ ’اگر آپ کا دیا ہوا پانی دوسری دنیا میں پہنچ سکتا ہے تو کیا میرا پانی اس دنیا میں میرے کھیتوں کو سر سبز نہیں کر سکتا

گرو نانک نے جب تبلیغ کا سفر ختم کیا تو انہوں نے اپنے آخری سال کرتار پور میں گزارے۔ یہاں ہزاروں لوگ ان کا دیدار کرنے آتے۔گرو نانک نے کئی آزمائشیں لینے کے بعد اپنی گدی بھائی لہنا کو سونپ دی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے خاندان اور خادموں کو جمع کیا اور خدا کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر تمام مجمعے نے ایسا ہی کیا۔ اتنے میں بابا گرو نانک مراقبے میں چلے گئے اور اسی حالت میں ان کا وصال ہوا، جس کے بعد ان کے ہندو اور مسلمان مریدوں میں جھگڑا ہو گیا۔

مسلمان مرید کہتے تھے کہ ہم ان کو دفنائیں گے، ہندو کہتے کہ وہ اپنی رسم کے مطابق ان کا انتم سنسکار کریں گے۔ آخر میں دونوں اس بات پر متفق ہو گئے کہ دونوں اپنے اپنے پھول ان کے جسم پر رکھ دیں۔ صبح جس فریق کے پھول نہ مرجھائیں وہی ان کے جسم کا وارث ہو گا۔ صبح ہوئی تو دونوں فریقین کے پھول تازہ تھے اور مہک رہے تھے لیکن جب چادر ہٹائی گئی تو بابا گرونانک کا جسم غائب تھا۔۔!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں