64

اکثر سر چکرانے کی کیا وجوہات ہیں کیا آپ کچھ دیر بیٹھ کر اٹھتے ہیں اور پھر سر چکرانے لگتا ہے، تو اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟ڈاکٹر سلطان رانا نیوروسرجن

سر چکرانا از ڈاکٹر سلطان رانا نیوروسرجن
اکثر سر چکرانے کی کیا وجوہات ہیں
کیا آپ کچھ دیر بیٹھ کر اٹھتے ہیں اور پھر سر چکرانے لگتا ہے، تو اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟
اس کا جواب ہے کہ یہ عام مسئلے سے لے کر سنگین مرض کی علامت بھی ہو سکتا ہے ۔
اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا تجربہ ہوتا ہے تو جان لیں کہ اس کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟
لو بلڈ پریشر
لو بلڈ پریشر کے نتیجے میں سر چکرانے لگتا ہے، خاص طور پر بیٹھے یا لیٹے ہونے کی صورت میں اچانک کھڑے ہونے کی صورت میں، طبی ماہرین کے مطابق جب بیٹھا ہوا شخص بہت تیزی سے اٹھتا ہے تو آپ کا خون اتنی تیز رفتاری سے سر کی جانب نہیں جا پاتا جس کے نتیجے میں سر چکرانے لگتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے اپنے جسم کی پوزیشن کو بدلنے میں تیزی مت دکھائیں جبکہ ڈاکٹر سے بھی رجوع کریں ۔
پانی کی کمی
جسم میں پانی کی معمولی سی کمی یا ڈی ہائیڈریشن تھکاوٹ، سر چکرانے یا جسم متوازن نہ ہونے کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ پانی کی کمی سے دوران خون سست ہو جاتا ہے ۔ ڈی ہائیڈریشن کے نتیجے میں بلڈ پریشر بہت تیزی سے نیچے جاتا ہے جو سر چکرانے کا باعث بنتا ہے ۔
زیادہ کیفین
روزانہ کی تجویز کردہ کیفین یعنی 400 ملی گرام سے زیادہ اس جز کو جزو بدن بنانا بھی سر چکرانے کا باعث بن سکتا ہے ۔ کیفین دماغ کی جانب دوران خون کی مزاحمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں سر چکرانے لگتا ہے ۔
ذہنی تشویش
ذہنی تشویش یا بےچینی بھی سر کے چکرانے کا باعث بننے والے عوامل ہیں، کیونکہ ایسا ہونے پر دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے جبکہ سانسیں گہری، یہ دونوں سر چکرانے کا باعث بنتے ہیں ۔
سر ٹکرانا
جب کسی چیز سے حال ہی میں سر ٹکرایا ہو تو سر چکرانا اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ آپ کو دماغی صدمے یا چوٹ کا سامنا ہے ۔ عام طور پر ایسا معتدل ہوتا ہے مگر یہ دماغ میں انجری کی جانب اشارہ کرتا ہے اور کسی ڈاکٹر سے رجوع کر کے تشخیص اور علاج کرانا چاہئے ۔
کان کا انفیکشن
اگر کان کے درمیان حصے میں انفیکشن ہو، یا نزلہ زکام، الرجی اور نظام تنفس کے اوپری حصے میں انفیکشن سے مواد کان کے پردے کے پیچھے مواد اکھٹا ہو جائے، تو سر چکرانے کے تجربے اور شدید جسمانی عدم توازن کا سامنا ہو سکتا ہے ۔
وٹامن بی 1 کی کمی
جسم میں وٹامن بی 1 کی کمی بھی سر چکرانے کا باعث بنتی ہے، یہ جز مرکزی اعصابی نظام کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے اور اس کی کمی کمزوری کا احساس اور دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کا باعث بنتی ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس وٹامن کی کمی دل کے بڑھنے کے مرض میں بھی بدل سکتی ہے جو کہ دماغ کی جانب جانے والے دوران خون میں مداخلت کرتا ہے اور سر چکرانے لگتا ہے، یہ ایک سنگین عارضہ ہے اور فوری طبی علاج کا تقاضہ کرتا ہے ۔
حیرت کا جھٹکا
ایسا اس وقت بھی ہوتا ہے جب کوئی اچانک آپ کو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں