66

کسی کی ظاہری شکل سے متاثر نہ ہوں ڈاکٹر شاہد عمران جوئیہ

*کسی کی ظاہری شکل سے متاثر نہ ہوں*
✍️از قلم: ڈاکٹر شاہد عمران جوئیہ
*تصویر کا ایک رخ*
1:وہ صاف شفاف دلکش لباس زیب تن کیے اپنی جاب کے لیے جاتی ہے چکمتی آنکھیں مسکراتا چہرہ رخسار پر لالی اس کے حسن کو چار چاند لگا دیتی ہے محلے کی ہر عورت اس کے نصیب پر رشک کرتی ہے وہ اپنی بیٹی کے اس جیسے نصیب کی دعا کرتی ہیں.

2:کرن دو بچوں کی ماں ہے ایم اے اردو کیا ہوا ہے ہنستا مسکراتا چہرہ،شوخ چنچل مزاج ہر کسی کے ساتھ مذاق کرنے والی ہر دکھی چہرے پر مسکراہٹ بکھرنے والی مانو کوئی غم اس کو چھو کر نہ گزرا ہو.

3:انمول آئی فون ٹویلوو پرو مکس ہاتھ میں لیے ماریہ بی کا مہنگا اور کمفرٹیبل ڈریس پہنے لپ سٹک،لگاۓ بناؤں سنگار کیے اپنے بچوں کے ساتھ کبھی سلفیاں لے رہی ہے کبھی کچن میں جاتی ہے واجد کے لیے اس کی پسند کا کھانا بنا رہی ہے کبھی کیک کو سیٹ کر رہی ہے کبھی کمرہ سیٹ کر رہی ہے جیسے کوئی اعلی دین کا چراغ اس کے ہاتھ لگ گیا ہو وہ اتنی خوش ہے کہ اس کو دیکھنے والی ہر آنکھ اس پر رشک کرے.

4:فرحت کی بیٹیاں اپنے گھر میں خوش ہیں داماد کی شہر میں بڑی سی شاپ ہے گاہکوں کا ہر وقت رش لگا رہتا ہے نواسے نواسیاں اس پاس کھیل رہے ہیں اپنے جیتے جی بیٹیوں کے گھر آباد دیکھنے کو مل رہے ہیں خوشی قسمتی ہر پہلو میں پڑی مل رہی ہے.

5:اور بے چاری علینہ کا تو حال دیکھوں ابھی کچھ عرصہ ہی شادی کو ہوا تھا کہ شوہر کا انتقال ہو گیا اتنا پیار کرنے والا شوہر تھا سسرال والوں نے تو شوہر کے مرنے کے بعد علینہ کے بالکل تعلق ختم کر دیا نہ جائداد میں حصہ دیا نہ گھر میں رہنے کی جگہ کم ظرفوں نے اس کی لڑکھڑاتی معذور ٹانگ کو بھی نہ دیکھا اور اس کو نکال گھر سے باہر کیا.

*تصویر کا دوسرا رخ*

1:وہ جاب سے تھکی ہاری اتی ہے گھر کے کاموں میں لگ جاتی ہے کمزور بدن سر میں شدید درد لیکن یہ کام بھی تو ختم کرنے ہیں اس طویل رات میں وہ کسی غیر محرم وجود کے علاوہ بھی ناجانے کس کس کرب سے اپنے زہن کے ذریعے ازیت دیتی رہتی ہے جس کو دیکھ کر عورتیں اپنی بیٹیوں کے نصیب اس جیسا ہونے کی دعائیں کرتی ہیں وہ تو بچاری نا جانے کیا کیا الم خانہ قلب میں چھپائے بیٹھی ہے

2:کرن کا اتنا محبت کرنے والا شوہر جب سے اس چھوڑ کر اس دنیا فانی سے گیا ہے ناجانے کتنی راتوں سے یہ چمکتی آنکھیں نیند سے روٹھی بیٹھی ہیں وہ چہرے پر مسکراہٹ تو لے آتی ہے لیکن کسی کو کیا خبر کتنی محنت کر کہ اس کے دماغ اور اس کے چہرے کے تاثرات ملتے ہونگے

3:انمول کو ویسے تو لگژری لائف سٹائل میسر ہے لیکن کون جانتا ہے وہ خوش بھی ہے یا صرف اس کے مسکراتے چہرے کو ہی اس کی خوشی سمجھا جارہا ہے
وہ جس خاوند کے لیے بھاگ دوڑ کررہی ہے کیا وہ اس کی اس بھاگ دوڑ سے خوش ہو پاۓ گا
لو واجد آگے لائٹ آف انمول انمول کدھر مر گئ ہو؟
لائف ان ہوتی ہے ٹھاں کی آواز آتی ہے انمول اپنے دو پھول سے بچوں کے ساتھ اپنے ہسبنڈ کو اس کی برتھ ڈے کا سرپرائز دیتی ہے لیکن واجد غصے سے سیخ پا ہوجاتا ہے اور انمول کے چہرے پر مسلسل تھپڑوں کی بارش ہونے لگتی ہے وہ پھول سے بچے سہم سے جاتے ہیں اور صوفے کے پیچھے چھپ جاتے ہیں کیا انمول کو یہ لگژری لائف سٹائل خوشی دے سکتا ہے؟

4:فرحت کی بیٹیاں تو واقعی اپنے گھر میں ہیں لیکن ان کے مسکراہتے چہرے اس چیز کی نشاندہی نہیں ہے کہ وہ خوش ہیں شادی کے 6ماہ بعد ہی داماد کی اصلیت ظاہر ہو گی نکھٹو اور نشی داماد سسرال والے اس سے بدتر ماں باپ کے در پر آ بیٹھی ہے بیٹی بھائی نے مدد کی ہے پیسا لگا کر سارے انتظامات کر کے دیے ہیں اور شہر میں شاپ بنا کر دی ہے داماد کو بس بیٹی تو اپنے گھر رہ کر لوگوں کی باتیں کس کس کے منہ بند کریں گے پھر بھی وہ انسان منہ میں زہر لیے پھرتا ہے بیوی کو مارتا ہے

5:علینہ کی دوسری شادی کو تو سال ہونے والا ہے اس کے شوہر نے گریجویٹ کیا ہوا ہے اپنا بزنس کرتا ہے سسرال والے بھی بےحد محبت کرنے والے ہیں شوہر بھی سوچ سے بھی زیادہ اچھا ہے خیال رکھتا ہے بہت جتنا اللہ کا شکر ادا کروں کم ہے

میرے پاس الفاظ کا ذخیرہ نہیں ہے بس ایک ناقص سی کوشش کی ہے کچھ لوگوں کی زندگی اپ کے سامنے رکھ کر کہ کسی کی ظاہری شکل و صورت شخصیت سے متاثر نہ ہوں اللہ نے اپ کو جس حال میں رکھا ہے وہ بہتر نہیں بہترین ہے اپ جیسا پوری دنیا میں کوئی دوسرا نہیں ہے اپ سب سے یونیق ہیں اپ ایک بہترین زندگی گزار رہے ہیں اگر اپ کے پاس جوتا نہیں ہے تو پریشان نہ ہوں کسی کے پاس تو پاؤں بھی نہیں ہے
اللہ بہترین کریٹر ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں