113

ججوں کی تقرری ایک مذاق

ججوں کی تقرری ایک مذاق
تحریر: محمّد شہزاد بھٹی بہاولنگر
پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی سینیارٹی کے اصول کے بر عکس تقرر کا معاملہ شدت اختیار کر گیا۔ سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری کا معاملہ بحث سپریم کورٹ کی ایک خالی نشست کے لیے سندھ ہائی کورٹ کے پانچویں نمبر کے جج جسٹس محمد علی مظہر کا نام سامنے آنے کے بعد شروع ہوئی۔ وکلا کی نمائندہ تنظیموں نے جن میں پاکستان بار کونسل شامل ہے سپریم کورٹ میں تقرری کے لیے سینیارٹی کے اصول یا سینیئر ججوں کو نظر انداز کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ وکلاء تنظیموں کی طرف سے سندھ ہائی کورٹ سے جونیئر جج کو سپریم کورٹ میں تقرر کرنے پر مخالفت جاری تھی کہ اسی دوران لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک کو سپریم کورٹ میں جج مقرر کرنے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلا لیا گیا۔ جسٹس عائشہ اے ملک لاہور ہائی کورٹ میں سینیارٹی کے اعتبار سے چوتھے نمبر پر ہیں۔ سپریم کورٹ میں تقرر کے لئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو نظر انداز کرنے کے اب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی کو بھی تقرر نہیں کیا گیا۔ پاکستان بار کونسل نے جسٹس عائشہ اے ملک کے ممکنہ تقرر کی بھی مخالفت کی ہے اور اسے ان کے مطابق اس اصول کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جس کے تحت ہائی کورٹ کے سینیئر جج ہی سپریم کورٹ میں تعینات ہو سکتے ہیں۔ وکلا تنظیموں کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ میں تقرر کے معاملے پر سینیارٹی کے اصول کی مکمل پاسداری کی جائے اور جونیئر ججوں کو سینیارٹی کے برعکس سپریم کورٹ لے کر جانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اسی تقریب میں سینئر وکلاء نے سپریم کورٹ سابقہ چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور حالیہ جسٹس گلزار احمد کو بھی وکلا کا کہنا یہ تھا کہ جب من پسند قسم کے ججز کو پاکستان کی اعلی عدالت سپریم کورٹ میں تعینات کیا جائے گا تو ان سے من پسند کی قسم کے ہی فیصلے لیے جائیں گے۔ ثاقب نثار کی بات کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ثاقب نثار نے اپنے آخری دنوں میں حیات گرینذ ٹاؤر کو ریگولرائز کیا بنی گالہ کو ریگولایز کیا۔ وہی ثاقب نثار نے غریبوں کے کے دو 2 مرلے کے گھر گروا دیے سندھ کے سینئر وکیل نے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ جسٹس اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقوں میں پلاٹ الاٹ کروا لیتے ہیں لیکن انہیں ججز نے غریبوں کے چھوٹے چھوٹے گھر کراچی میں مسمار کروا دئیے جن کے ہم عینی شاہد ہیں۔ جس سے لاکھوں لوگ اب گھر جیسی نعمت سے محروم ہوچکے ہیں۔ پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر قاضی انور نے کہا، انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔ پاکستان میں عام آدمی کے لئے انصاف کا حصول خواب ہی ہے، جہاں مقدمے کا فیصلہ آنے میں پندرہ سے بیس سال لگ جاتے ہیں۔ مدعی انصاف مانگتا ہی مر جاتا ہے۔ ملک میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں۔ سینئر قانون دان حامد خان نے اپنے خطاب میں بتایا ‏وقار سیٹھ نے مجھے وکیل مقرر کیا جسٹس گلزار نے جسٹس وقار سیٹھ کا 6 مہینے تک کیس نہیں لگنے دیا۔ چیف جسٹس گلزارِ اسٹیبلشمنٹ کا سب سے بڑا مہرہ ہے۔ پاکستان کے سینئر وکلا جس طرح سابقہ چیف جسٹس ثاقب نثار اور حالیہ چیف جسٹس گلزار احمد کے کارنامے بتا رہے ہیں تو واقع ہی پاکستان میں کسی شہری کو انصاف نہیں مل سکتا۔ ایک وکیل نے یہاں تک کہا کے یہ جسٹس صاحبان سب سے اعلی قسم کی مراعات پرکشش تنخواہیں لینے کے بعد بھی ہفتے میں صرف چار دن اور ہر دن تین گھنٹے کے لئے عدالت میں آتے ہیں۔ لاکھوں کیسز عدالتوں میں پینڈنگ پڑے ہیں اگر یہ مسائل ان ججوں نے حل نہیں کرنے تو یہ کس لئے عدالتوں میں بیٹھے ہیں پاکستان کے سینئر وکلا کا عدالتوں پر عدم اعتماد اور الزامات لگانا اور پاکستانی عوام کو جو پہلے ہی ناانصافی کا شکار ہے ایک گھمبیر صورتحال میں دکیل چکا ہے کیونکہ ہم خود بھی دیکھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اعلیٰ عدلیہ سے من مرضی کے فیصلے کرواتی ہے اور جو ان کی مرضی کا فیصلہ نہیں دیتا اس کو کام کرنے سے ہی روک دیا جاتا ہے ہے جسٹس شوکت صدیقی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ عدلیہ کی کارکردگی پر ایک عالمی تحقیق میں 128 ممالک میں سے پاکستان 120 نمبر پر آیا ہے۔ امریکا کے ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے تحت گزشتہ کئی برسوں سے دنیا کے مختلف ممالک میں عدلیہ کی کارکردگی اور عدالتی نظاموں سے متعلق اعداد و شمار جمع کیے جاتے ہیں۔ دنیا کے ایک سو اٹھائیس ممالک کے ڈیٹا پر مشتمل اس ادارے نے اس سال اپنی جو تفصیلات جاری کی ہیں، ان میں قانون کی بالا دستی یا رول آف لاء ایک انتہائی اہم انڈکس ہے۔ اس تحقیق کے مطابق جنوبی ایشیا کے کئی ممالک میں عدلیہ کی کارکردگی کی صورت حال پاکستان کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔ رول آف لاء انڈکس کے مطابق نیپال اپنی عدلیہ کی کارکردگی کے لحاظ سے 61 ویں، سری لنکا 66 ویں اور بھارت 69 ویں نمبر پر ہے پاکستان اس وقت انصاف کی فراہمی کے حوالے سے دنیا کے ایک سو اٹھائیس ممالک کی فہرست میں 120 نمبر پر ہے اس رینکنک میں پاکستان سے نیچے افغانستان ہے، جس کا 122 واں نمبر بنتا ہے۔ جب ثاقب نثار اور جسٹس گلزار جیسے لوگ پاکستان میں چیف جسٹس تعینات ہوں گے تو پاکستان میں انصاف کی فراہمی کی رینکنگ کیسے بہتر ہوگی۔ پاکستان کے سابقہ چیف جسٹس ثاقب نثار جو کے عدل وانصاف کے معاملات پشت ڈال کر انتظامی معاملات میں مداخلت کرتے رہے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے رہے۔ ثاقب نثار انتظامی معاملات دخل اندازی کرتے رہے۔ پاکستان میں میں پانی کی قلت کا ماحول بنا کر ڈیم کے لئے پیسہ اکٹھا کر کے جیب میں ڈالا۔ منرل واٹر کی کمپنیوں کو ڈرا کر پھر ان سے رشوت لے کر خاموش ہو گئے۔ اپنے ذاتی مفاد کے لئے غریب مریضوں کے لیے بنائے گئے ادارے پاکستان کڈنی اینڈ لیور سنٹر (PKLI) کو بند کروا دیا۔ ملک ریاض کی جو منی لانڈرنگ لندن میں پکڑی گئی تھی پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کروانے کی بجائے اسی کے اکاؤنٹ میں جمع کروا دی۔ ملک ریاض کے ہزاروں ایکڑ زمین پر قبضہ کرنے میں مدد کی ثاقب نثار نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے ہوئے ملک میں غریبوں کے گھر گروائے لیکن وہیں حیات گرینڈ ٹاور بنی گالہ کو ریگولایز کیا اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ جب اس طرح کے کارنامے میں ملک کے چیف جسٹس صاحبان کریں گے تو ملک میں انصاف نہیں نا انصافی عام ہو گی۔ دنیا پاکستان کو شک کی نظر سے غریب پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ نا انصافی کی وجہ سے اور ان کرپٹ ججز اور جرنیلوں کی وجہ سے دیکھتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں