35

شہدادپور کے علاقہ ھنگوروروڈ کے رہاٸیشی قبرانی ۔معشوق علی رند۔غلام مصطفی ۔عمران قبرانی ودیگر نے شہدادپور پریس کلب میں پریس کانفرنس

شہدادپور کے علاقہ ھنگوروروڈ کے رہاٸیشی قبرانی ۔معشوق علی رند۔غلام مصطفی ۔عمران قبرانی ودیگر نے شہدادپور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوٸے الزام عاٸد کیا کہ شہدادپور پولیس نے ہمارا جینا محال کردیا ہے ۔کچھ سال پہلے ایس ایچ او طفیل بھٹو۔جٹیا چیک پوسٹ انچارج نور محمد چانڈیو ھیڈ محرر خان محمد جسکانی نواز علی چانڈیو ندیم سیال عرف آصف کھوکھر اور الطاف اجن ملوث ہے ہمارے احتجاج کے بعد آٸی جی سندھ کی انکوائری ٹیم کی جانب سے قتل ثابت ہوا ۔اس وقت کے اے ایس پی شہدادپور اظہر مغل اور اقبال پٹھان پر عدالت نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ۔جس کے بعد مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما سابق ایم پی اے فقير محمد بخش خاصخیلی کو لے کر أٸے اور جرم ثابت ہونے پر جرمانہ دینے کا فیصلہ ریٹن میں دیا ۔ثابت ہوا کہ میرے بھتیجے پیار علی ولد محمد موسی قبرانی کو 27.12.2018 کو گرفتار کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنا کر جان سے مار ڈالا ۔اب شہدادپور تھانہ کے اے ایس آٸی صالح خاصخیلی اور آصف کھوکھر نے میرے بھتیجے شیر علی قبرانی کو بلاجواز گرفتار کرکے 25ہزار روپیہ والا موبائل اور 50ہزار روپیہ نقدی جیب سے نکال کر شیر علی پر تشدد کرکے برا حال کردیا ۔انھوں نے آٸی جی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں تحفظ دے کر انصاف دلوایا جاٸے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں