44

کالم نگار: محمد وقار بھٹی عنوان ہمارا معاشرہ اور معاشرتی مسائل

کالم نگار: محمد وقار بھٹی عنوان ہمارا معاشرہ اور معاشرتی مسائل

معاشرتی برائیوں کے متعلق جاننے سے پہلے انسانی معاشرے کے متعلق جاننا ضروری ہے تاہم معاشرے کی جامح تعریف کو ذیل میں بیان کیا جاتا ہے۔
*معاشر:*
معاشرہ افراد کا ایسا گروہ جو اس اصول پر آپس میں رہائش پزیر ہوں کہ ان کے مفادات مشترک ہوں۔ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ؛ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﮧ ﺟﺴﮑﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ زندگی ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺭﻭﺍﺑﻂ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﯾﮧ ﻻﺯﻣﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻗﻮﻡ ﯾﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻣﺬﮨﺐ ﺳﮯ ﮨﻮ۔ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﺧﺎﺹ ﻗﻮﻡ ﯾﺎ مذہب ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻧﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ، ﻣﻐﺮﺑﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﯾﺎ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ۔ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﺑﮍﮬﺎ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭼﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﻓﻼﺡ ﻭ ﺑﮩﺒﻮﺩ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﺎ ﻗﺮﺁﻧﯽ ﺗﺼﻮﺭ، ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻞ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻐﺎﺗﯽ ﺗﻌﺮﯾﻔﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﻤﮏ ﮐﮭﻮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺳﻮﺭۃ ﺁﻝ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺖ 110 ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﻠﮏ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮱ، ﺗﺮﺟﻤﮧ : ۔۔۔۔۔ ﺗﻢ ﺍﭼﮭﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﮮ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ۔۔۔۔۔ ﺍﺱ ﻗﺮﺁﻧﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺭﺍﮦ ﮐﮭﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﮯ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﻨﯽ ﺁﺳﻮﺩﮔﯽ ﺑﮭﯽ۔

*انسانی معاشرہ:*
انسانی معاشرہ انسانوں سے تشکیل پانے والے ایسے مجموعہ کو کہتے ہیں جو باہمی طور پر یکساں  زندگی بسر کرتے ہیں اور اپنی ضرورتِ زندگی کو پورا کرنے میں اور زندگی کےمختلف امور کی انجام دہی میں ایک دوسرے کےمحتاج ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ عقائد و نظریات، مشترک آداب و عادات اور یکساں اہداف کے مالک ہوتے ہیں۔

*معاشرہ کی تشکیل کی بنیادیں:*
انسان فطری طور پر مدنی الطبع واقع  ہوا ہے اور وہ معاشرے سے کٹ کر زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ گویا اجتماعیت اور انسان لازم و ملزوم ہیں۔ انسانی اجتماع کی بقاء کےلئے اللہ تعالیٰ نے معاشرہ کی تشکیل و ترقی کے قوانین دیے ہیں۔
جو معاشرہ ان قوانین کے مطابق زندگی گزارتا ہے، اسلامی معاشرہ کہلاتا ہے۔ اسلامی معاشرہ میں رہنے والے اسلامی عقائد و نظریات کے مطابق زندگی کے تمام معاشرتی معاملات انجام دیتے ہیں۔
اس کے برعکس، جو لوگ الہی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر اپنے بنائے قوانین و ضوابط کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، غیر الہامی معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔ اس مقالہ میں ان اسلامی عقائد و تعلیمات کا جائزہ لیا گیا ہے جو معاشرہ کے تمام افراد کو باہم مربوط رکھتے  اور ایک اسلامی معاشرے کی مضبوط بنیادیں فراہم کرتے ہیں۔

*معاشرتی برائیاں:*
ویسے تو معاشرے کی بہت سی برائیوں پہ میں نے قلم اٹھانے کی کوشش کی ہے جیسے خودکشی کا رجحان ، ہماری زندگی میں  سوشل میڈیا کے برے اثرات، صفر کے توہمات بےحیائ،بے روزگاری وغیرہ، لیکن اب میں آپ سب کو معاشرے کی ایسی برائ کی طرف توجہ دلانا چاہتی ہوں جو ہر انسان میں ہوتی ہے اور انسان روانی میں اسے کرتا چلا جاتا ہے۔

لیکن اسے پتا نہیں چلتا وہ کیا کررہا ہے جیسے غیبت ، جھوٹ،ناشکری، بدگمانی،حسد یہ سب برائیاں یا گناہ کہہ لیں ہمارے اندر ہمیشہ سے ہی موجود ہیں لیکن ہمیں اس کی آگاہی نہیں۔ جاہلوں سے درگزر کرنا اور احسان کرنا نیکی ہے۔ ہر نیکی ثواب کا کام ہے ۔

احسان کرنے اور منصفانہ برتاؤ سے برائیاں دور ہوتی ہیں اور نیکی کے عمل سے معاشرتی برائیوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اس لئے عفو و درگزر سے کام لینا چاہئے۔ نیکی، بدی کو دھو دیتی ہے ۔ بھلائی کرنا ایک ایسی صفت ہے جو ہر نیکی کو محیط ہے اور یہ بہت سی برائیوں کا علاج ہے۔

ایک انگریز کیمیاء دان نے معاشرتی مسائل کی جامع تعریف کچھ اس طرح بیان کی ہے:
*لینڈ برگ کے مطابق:*
معاشرتی مسئلہ  انحراف پر مبنی رویے کا نام ہے جو لوگ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کسی خاص سمت میں معاشرے کے بتائے ہوئے حدود سے باہر ہو کر اپناتے ہیں”.

 پریشانیوں کی مثالیں جرم ، منشیات کی لت ، نسلی یا جنسی امتیاز یا غربت ہیں جن کا نام صرف کچھ ہے۔ مشکلات کی حیثیت سے ، اور جیسے ہی وہ سماجی شعبوں کا شکار ہیں ، ان کو حل کرنے کا سب سے بڑا ذمہ دار ریاست ہے۔
تاہم ، یہاں ایک غیر سرکاری تنظیمیں بھی ہیں ، جن کا مقصد معلوم شدہ معاشرتی پریشانیوں کا خاتمہ کرنا اور حکومتوں کو اپنے معاشروں کو زیادہ سے زیادہ جگہ بنانے میں مدد کرنا ہے ، جہاں ان کے لوگ اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح سے ترقی دے سکتے ہیں۔پوری تاریخ میں ، اور جب سے انسانیت موجود ہے ، معاشرتی مسائل اس کا ایک حصہ رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ، یہ مسائل بدلتے اور تیار ہوتے رہے ہیں ، لیکن ان کا وجود کبھی ختم نہیں ہوا۔
دنیا کے تمام ممالک اور معاشروں کو معاشرتی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، لیکن جتنے کم ہوں گے ، ایسے معاشروں کی ترقی اتنی ہی زیادہ ہوگی ، کیوں کہ یہ ترقی کا اشارہ رکھتا ہے۔اگرچہ اس حل کے لئے اکثر حکومتوں اور معاشروں کی طرف سے خود ہی سیاسی مرضی اور تخلیقی حل کی ضرورت ہوتی ہے۔

لیکن معاشرتی مسائل کو حل کرنا سرکاری اور غیر سرکاری سماجی تنظیموں کی مختلف سطحوں کے مابین مشترکہ اور اجتماعی کارروائی کے ذریعہ موثر ثابت ہوسکتا ہے۔

ویسے تو معاشرے کی بہت سی برائیوں پہ میں نے قلم اٹھانے کی کوشش کی ہے جیسے خودکشی کا رجحان ، ہماری زندگی میں سوشل میڈیا کے برے اثرات، صفر کے توہمات بےحیائ،بے روزگاری وغیرہ، لیکن اب میں آپ سب کو معاشرے کی ایسی برائ کی طرف توجہ دلانا چاہتی ہوں جو ہر انسان میں ہوتی ہے اور انسان روانی میں اسے کرتا چلا جاتا ہے 
موجودہ دور میں جرائم ایک عام معمول اور معاشر ےکا جزو لازم بن گیا ہے۔
وہ جرائم خواہ اخلاقی ہوں یا جنسی طور پرہوں یا لوٹ مار،قتل ،ڈکیتی سے متعلق ہوں،علاقائی اور شہری سطح پر ہوں، یا ملکی و بین الاقوامی ،اس کی زد سے نہ انفرادی زندگی مخفوظ ہے نہ اجتماعی ،آج پورے عالم میں جرائم اوربد اخلاقی کا تناسب بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہاہے،آج ہمارے معاشرے میں جرائم کی کثرت کا جو عالم ہے ، وہ کسی بیان اور وضاحت کا مختاج نہیں ،ایسا لگتا ہے گویا پورا معاشرہ جرائم کی لپیٹ میںآنے لگا ہے ،آج نامی گرامی دانشور اور مہذب تعلیم یافتہ سے لے کر ان پڑہ ،گنوار تک ہر کوئی اپنے اپنےزاویے سے اس کے اصل محرکات واسباب کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔
کوئی بے روزگاری کو وجہ قرار دیتا ہے کوئی کہتاہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث معاشرہ جرائم کی زد میں ہے ،کوئی سیکیورٹی کے صحیح انتظامات نہ ہونے کو اس کا اصل سبب گردانتاہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں