53

حکومت کی میڈیا اتھارٹی غیراعلانیہ مارشل لا، مسترد کرتے ہیں: پی ڈی ایم

ی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ’پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی پوری کوشش کی، لیکن ہم ان کے خلاف کوئی محاذ نہیں کھول رہے۔ ہمارا ہدف حکومت ہے جو تما خرابیوں کی جڑ ہے۔ اس کو ہٹا کر دم لیں گے۔ ہم دو جنگیں نہیں لڑنا چاہتے۔‘
سنیچر کو کراچی میں پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت میڈیا کے حوالے ایک اتھارٹی بنانے جا رہی ہے۔ اجلاس میں اس اتھارٹی کو مسترد کیا گیا ہے اور میڈیا کی آزادی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ غیراعلانیہ مارشل لا ہے اور میڈیا کی آزادی کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔ ہم اس سیاہ قانون کو تسلیم نہیں کرتے۔انتخابی اصلاحات کے بارے میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ’ایسی حکومت جو خود دھاندلی کی پیداوار ہے اسے یکطرفہ اصلاحات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ غیرقانونی اور غیر آئینی ہے۔ اجلاس اسے مسترد کرتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پوری دنیا نے الیکڑانک ووٹنگ مشینوں کو مسترد کیا ہے۔ یہاإ الیکشن کمیشن نے بھی اعتراضات کیے ہیں۔ اس کے باوجود وہ ان مشینوں کو استعمال کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ یہ الیکشن چوری کرنے کا مذموم منصوبہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پی ڈی ایم نے ملک میں جلسوں کا جال بچھانے کا فیصلہ کیا ہے اور صرف جلسوں پر اکتفا نہیں کریں روڈ کارواں چلائیں گے تاکہ عوام سڑکوں پر آکر اپنے ووٹ کا حق حاصل کریں۔‘
’ستمبر کے پہلے ہفتے میں پی ڈی ایم کا اجلاس ہوگا جس میں شیڈول جاری کیا جائے گا۔‘
مولانا فضل الرحمن کے مطابق ’پی ڈی ایم نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ حکومت کی تین سالہ ناکامیوں پر وائٹ پیپر شائر کریں گے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں