118

ٹاپک: ” _آزادی_اعجاز احمد تارر۔

ٹاپک: ” _آزادی_”
آزادی اِنسان کی وہ صلاحیت یا ماحول ہے جس میں وہ اپنی اقدار ، معیار ، عقل اور اپنی مرضی کے مطابق رہ سکے اور اپنی زندگی گزار سکے 14اگست 1947 قربانیوں کی داستان خون کی وُہ لکیر ہے جس سے برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی آنے والی نسلوں کے لئے الگ وطن کا نقشہ کھینچا اور جن کے صدقے میں ہم آزاد فضاوں میں سانس لے رہے ہیں اور ہمارا پاکستان دنیا میں ایک امن کا نشان ہے جہاں اقلیتوں کو بھی بہت تحفظ حاصل ہے اِن پر کوئی جبر نہیں ہے ہمارے ملک کو آزاد ہوۓ 75 سال ہو گئے ہیں کبھی سوچا ہے کہ متحدہ ہندستان سے الگ ہو کر ملک پاکستان بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی وہاں صرف عقائد مختلف تھے لیکِن رہن سہن سب کا تقریباً ایک جیسا ہی تھا کیوں کہ مسلمان اور دوسرے مذہب والے اکھٹے ہی رہتے تھے لیکن ملک پاکستان کو حاصل کرنے کا واحد مقصد اپنے عقائد کی ادائیگی میں آزادی تھی جو متحدہ ہندستان میں نہیں تھی کیونکہ وہاں انگریز قابض ہو چکے تھے اور وہ اپنی من مرضی کرتے تھے انگریز تجارت کی غرض سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے ائے اور آہستہ آہستہ قابض ہو گئے اپنا پورا تسلط قائم کرنے کے لئے عیسایت مذہب کو فروغ دینے لگے یہ بات مسلمانوں کو بالکل بھی قابل قبول نہیں تھی کہ وہ اپنا مذہب چھوڑیں مسلمان تو عقیدہ توحید پر قائم تھے اُس وقت کے مسلمانوں نے سوچا کہ ان سے چھٹکارا حاصل کیا جاۓ اور اپنا الگ ہی ملک بنا لیا جاۓ جس میں ہم آزادی سے اپنے مذہب کے مطابق زندگی بسر کر سکیں اور ہمیں کوئی روکنے والا نا ہو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا آغاز 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام سے ہوا اس جماعت کے قیام کا مقصد ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے مفاد کا تحفظ اور اُن کی نمائندگی کرنا تھا آہستہ آہستہ اس جماعت کا دائرہ کار وسیع ہوتا گیا اور لوگ جوق درجوق اس میں شامل ہوتے گئے اُن سب كا مقصد صرف ایک ہی تھا کہ ہم نے اپنا الگ ملک بنانا ہے اسی لیے اس جماعت کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا دسمبر 1930 میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے جنوب مشرقی ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک خود مختار ریاست کا تصور دیا تھا اور 1933 میں چوہدری رحمت علی نے نام تجویز کیا اور پاکستان کا نقشہ کھینچا قائد اعظم محمد علی جناح نے مسلم لیگ کی طرف سے 1940 کی قرار داد لاہور کی منظورِی سے قیام پاکستان کی رہ ہموار ہوئی اور آہستہ آہستہ ان سب رہنماؤں کی کاوشوں سے 14اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا یہ ایک ایسی تاریخ ہے جس میں ہزاروں خونی داستانیں سینکڑوں خوفناک واقعات لاکھوں درد ناک کہانیاں پوشیدہ ہیں وطن پاکستان ہمیں جو وراثت میں ملا ہے اس کی بنیادیں اُستوار کرنے کے لئے متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی جگہ اور خون پانی کی جگہ استعمال ہوا ہے اس گراں قدر تخلیق کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جس نے تعمیر پاکستان میں اپنا بھائی اور عزیز و اقارب قربان کئے ہیں حصول پاکستان کے لئے لاکھوں مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا کتنی ماؤں کے بچے قتل کر دیے گئے کتنی پاکدامن ماؤں بیٹیوں نے نہروں اور کنوؤں میں کود کر اپنی جان دے کر پاکستان کی قیمت ادا کی کتنے بچے یتیم ہوۓ جو ساری عمر والدین کی شفقت کو ترستے رہے اس آزادی کے حصول کے لئے بہت سی مشکلات تھیں لیکن مسلمانوں کی ضد تھی کہ وہ رب العالمین کے عبادت کے لئے اپنا ملک ضرور قائم کریں گے جو رب سوہنے کی مدد سے بن گیا ۔
لیکن اب دیکھیں تو جو مقصد لیے یہ ملک بنا تھا وہ ہم بھول گئے ہیں ہم نے انسانی حقوق رب العالمین کی عبادت اور بہترین معاشرے کو تو پس پشت ڈال دیا ہے اور اُسی ڈگر پر چل رہے ہیں جو 75 سال پہلے تھی خدارا جس مقصد کے لیے یہ وطن حاصل کیا تھا اُس پر عمل کریں تاکہ بہترین معاشرہ بنے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق دے آمین
اعجاز احمد تارر۔
03412241839

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں