45

*’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟*ایم فاروق انجم بھٹہ گوجرانوالہ سے

*’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟*
سوچیۓ کہ اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو اب بھی ہم ذہنی طور پر انگریزوں کی قید میں کیوں ہیں؟کیوں؟آخر کیوں ہم اپنے شب و روز انگریزوں کی پیروی کرتے ہوۓ بسر کرتے ہیں۔اپنے بچّوں کو فرفر انگریزی بولتا دیکھ کر کیوں ہمارا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے۔اپنے گھر کی بیٹیوں اور بہنوں کو مغربی لباس ذیبِ تن کرتا دیکھ کر کیوں ہم لب سِیے رہتے ہیں بلکہ صرف یہی نہیں،معاشرے میں مغربی لباس ذیب تن کیے فرفر انگریزی بولتی لڑکی کو قابل،جبکہ دوپٹے سے سر ڈھاپنے والی اور مشرقی تہذیب میں رنگی لڑکی کو دقیانوسی اور جاہل قرار دیتے ہیں۔
ہم اس ملک میں رہ رہے ہیں جہاں آج بھی ہمارے ہاں ایک غریب کی آواز کو دبایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں آج بھی دس سال کی بچی کی گمشدگی پر پولیس اہلکار اس معصوم بچی پر بھاگ جانے کا الزام لگاتے ہیں سر عام قتل کر دیا جاتا ہے۔ کیا یہ آزادی ہے۔ ؟ آزادی اسے کہتے ہیں؟ نہیں ہم غلام ہیں ہم اپنے ہی لوگوں کے غلام ہیں ہم نے باہر کی طاقتوں سے تو آزادی حاصل کر لی ہے پر اندر کی طاقتوں سے آج بھی ہم آزاد نہ ہوسکے۔ ہم غلام ہیں اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں۔ہم غلام ہیں غلط سوچوں کے. ہم ایک آزاد ملک میں رہتے ہوئے بھی غلام ہیں یہاں ہر شخص کسی دوسرے شخص کے حقوق چھین رہا ہے توہم آزاد کیسے ہوئے؟ آزاد قوموں میں تو ہر شخص کو اس کی عزت وآبرو اس کے جان ومال کی حفاظت کا حق حاصل ہوتا ہے. اس ملک نے ہمیں ایک شناخت دی لیکن افسوس ہم خود کے ہاتھوں ہی اپنی شناخت کھوتے جا رہے ہیں۔ جو قومیں اپنی تہزیب وثقافت کو کھو دیتی ہیں وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی ہیں۔
ہم نے ملک تو آزاد کروالیا، خطہ زمین تو حاصل کرلیا لیکن ذہنی وثقافتی طور پر ہم ابھی بھی اسیری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم بظاہر آزاد ہیں لیکن پچہتر سال بعد بھی ہم ان دیکھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے تہذیب اسلام، تمدن اسلام، کلمہ حق اور تعلیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ رکھنے کے لیے، جس معاشرے کے قیام کے لیے اتنی جہدوجہد کی، اپنی نسلوں کی قربانی دی۔ان قربانیوں اور جہدوجہد کو ہم نئی نسل اپنے ہاتھوں سے اس کو نہ صرف ضائع کررہے ہیں بلکہ دشمنوں کی مدد کررہے ہیں کہ وہ ہم سے ہماری پہچان، ہماری آزادی ہم سے چھین لیں۔ہمارے دشمن یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کبھی بھی میدان جنگ مسلمانوں سے نہیں جیت سکتے ان کو میدان جنگ میں جیتنے کے لیے اس کو سب سے پہلے ہماری اسلامی اصلاحات کو مارنا ہے جس کے لیے انہوں نے ہماری نئی نسل کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی کہ اسلام ایک ظالمانہ نظام رکھتا ہے اور آزادی ہر ایک کا حق ہے۔ اس کے لیے سوچنے کا نظریہ بدلنا شروع کر دیا، ایسی ایسی ایجادات کردیں کہ ہماری نئی نسل دین کو اپنے نئے نظریہ سے بدلنے لگ گئی۔ لڑکیوں کے دماغ میں بٹھا دیا اور لڑکیوں نے کہنا شروع کر دیا کہ پردہ نظر کا ہوتا ہے۔ اس جملے نے آدھی امت مسلمہ کی لڑکیوں کو برہنہ کر دیا۔ سب کی اپنی ذاتی زندگی ہے اس سوچ نے امت مسلمہ کے باپ بھائیوں کو بے غیرت کردیا۔ آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ہم آزاد ہوتے ہوئے بھی آزاد نہیں ہیں، زنجیریں نہیں ہیں لیکن پھر بھی ان دیکھی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ دشمن نے ہمیں ہماری ذہنی صلاحیتوں، ہماری سوچوں کو جکڑا ہوا ہے اور ہم کٹھ پتلیوں کی طرح ان کے اشاروں پر اپنی مرضی سے ناچ رہے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں۔
ہم ایک بے حس قوم ہو چکے ہیں، جنھوں نے غلط کو غلط سمجھنا بھی چھوڑ دیا ہے… بہت سے لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ زندگی تو ایک ہی بار ملنی ہے تو اسے اس ملک میں رہ کر کسمپرسی سے کیوں گزارا جائے، کیوں نہ ایک بار رقم خرچ کر کے اس ملک سے نکلا جائے، باہر جہاں کہیں بھی جائیں گے، کم از کم وہاں کوئی قانون ہو گا، عزت اور جان و مال کے تحفظ کی ضمانت تو ہو گی، موت تو مقررہ وقت پر ہی آنی ہے مگر ہر وقت موت کے خوف میں مبتلا رہ کر ذہنی امراض کا شکار تو نہ ہوں گے۔جس ملک میں کھانے پینے کے نام پر حرام بک رہا ہو، دودھ ، گوشت ناقص ہو، اور تو اور پینے کا پانی، زندگی بچانے والی دوائیں۔
کس طرح اس ملک میں سکون سے رہا جا سکتا ہے، ہر روز ٹیلی وژن پر کسی نہ موضوع پر پروگرام چلتا ہے اور ہمیں علم ہوتا ہے کہ ہمارے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، کیا حکومتی عہدے داران یہ سب نہیں دیکھتے، پھر بھی یہ سب ہوئے جا رہا ہے،اس ملک میں کیا رہیں جہاں حکمرانوں کو ہم سے سوائے ووٹ کے اور کچھ نہیں چاہیے، اس کے بعد وہ بھول جاتے ہیں کہ انھوں نے ہم سے کیا کیا وعدے کیے تھے۔
ہم نئی نسل کو جتنا گھامڑ سمجھتے ہیں، اتنے وہ ہیں نہیں… انھیں شاید ملک کے بارے میں ابتدائی معلومات نہیں ہیں مگر حالات حاضرہ سے ہرگز نا واقف نہیں… ہمارے بچے سمجھتے ہیں کہ کیا غلط ہو رہا ہے اور اس غلط ہونے کی جڑیں کہاں ہیں۔ ہم نے آزادی کس لیے حاصل کی تھی؟ کیا اس ملک میں وہ سب کچھ ہو رہا ہے جوہمار ے دو قومی نظرئیے کی بنیاد تھا، کس لیے ہم سوچتے تھے کہ ہمیں ایک علیحدہ ملک چاہیے؟
پچہتر برس بیت چکے… ہم تب سے آزاد ہیں، کیا ایک آزاد ملک کی فضاؤں میں سانس لیتے ہیں، کیا ہمیں اپنے مذہبی اور معاشرتی عقائد اور رسومات پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے… کیا ہماری معیشت آزاد ہے… ہمارے ہاں قانون آزاد ہے ، لوگ آزاد ہیں، اظہار رائے کی آزادی ہے؟
ایک آزاد ملک ہونے کا عمومی مقصد تو یہی ہوتا ہے نا… تو کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں