132

عجیب اتفاق ہے کہ اشیائے خوردونوش پوری کرتے کرتے بندے کی جان حلق میں آ جاتی ہے

عجیب اتفاق ہے کہ اشیائے خوردونوش پوری کرتے کرتے بندے کی جان حلق میں آ جاتی ہے ایسے میں اگر بندا بد بختی سے ڈاکٹر حضرات کے ہتھے چہڑ جائے تو کیسا ہو۔
ایسا ہی کچھ آج میرے ساتھ بھی ہوا۔ میری بہن کے ہاں ولادت ہونے والی تھی تو ہم انہیں الرحمن ہسپتال پھالیہ لے آئے۔۔ نام رحمن ماشااللہ لیکن فیس توبہ توبہ۔ ان کا آپریشن الحمدللہ کامیاب رہا اللہ نے بیٹی عطا فرمائی۔۔ فر جب بل دیکھا تو خود پہ بڑا غصہ آیا۔۔ کیوں کہ آپریشن سے پہلے حلف لیا جاتا ہے جو وہ بھی دیا اور پیسے بھی اتنے دینے ہیں کہ اک سفید پوش پورا سال قرض اتارتا پھرے۔ خیر ان کو چھوڑیں۔ بات کرتے ہیں بشیر بیگم ہسپتال کی جو خدمت خلق کی بجائے جیبیں گرم کرنے پہ فوکس کئے ہوئے ہیں۔۔۔ جہاں سب سے پہلے ہمیں فیس بتائی گئی بھیا 7500 فی 24 گھنٹہ داخل رہنے کی فیس 300 روپے فی گھنٹہ اکسیجن فیس اور 2000 ڈاکٹر فیس جو موجود بھی نہیں تھے اور ادویات سو الگ اور ساتھ میں کہا گیا بھائی فیس بھر لیں گے تو رہیں نہیں تو چلے جائیں۔۔ اب سوال یہ ہے کہ چلیں اللہ نے ہمیں دیا تو ہم فیس بھر لیں گے۔ حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بھرتے ہوئے ہاتھ کانپیں گے۔ لیکن اگر اک ایسا بندا جو دھاڑی کرتا ہے وہ یہ سب برداشت کر سکتا ہے؟؟
کیا وہ یہ سب فیسز بھر پائے گا؟
اب اگر اس کے دماغ میں یہ آ جائے کہ یہ بیٹا یا بیٹی پیدا ہوتے ہی بوجھ بن گیا ہے اور اس کے زہن میں اس کے ساتھ کجھ کرنے کا کوئی سوال آ جائے تو کون ذمے دار۔۔
اب ڈاکٹرز عبادت نہیں کرتے۔۔۔ میری التجا ہے کہ بھائی صرف پیسا ہی نا کمائیں کچھ انسانیت بھی کما لیں۔۔۔
ہمارے معاشرہ ایک نہیں ہے ہمارا معاشرہ کئی حصوں میں بٹ چکا ہے۔ جسا کہ امیر اور غریب۔۔۔ جو امیر لے گا وہ غریب یا متوسط نہیں لے سکتا۔۔ مطلب جو صحت امیر لے سکتا ہے، جو انصاف امیر اور طاقتور لے سکتا ہے، وہ غریب کی دسترس میں کہاں۔۔۔؟
اب کچھ اچھی نیچر کے مالک میرے دوست یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ غریب سرکاری ہسپتال میں چلا جائے سرکار بڑا کچھ کر رہی ہے اس زمرے میں۔۔۔ تو ان کے لئے پہلے ہی عرض کیے دیتا ہوں کہ آپ خود سرکار کے بنائے ہسپتالوں کا دورہ کر کے تو دیکھیں آپ کی عقل اور آپ کا ضمیر میری یہ لکھی گئی باتیں سوچنے پر مجبور کر دے گا۔
آج آپ سب سے سوال یہ ہے کہ آپ اپنے لئے تو جی رہے ہیں کیا ان مجھ جیسے سفید پوشوں کے لئے تھوڑا سا وقت نکال کے آواز اٹھا سکتے ہیں؟ اگر ہاں تو اٹھائیے آواز اور پہنچائیے اشرافیہ کے کانوں تک جو غریبوں کو بہت بڑی 2 ہزار کی رقم عنائیت فرما کر ایسا جتلاتے ہیں جیسے یہ ان کا اپنا پیسا تھا۔
شکریہ۔
Ijaz Ahmed Tarar

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں