56

اسسٹنٹ کمشنر پھالیہ کی ہدایت پر انفورسمنٹ انسپکٹر مہر شوکت علی نے 9 بجے کے بعد دکانیں کھلی رکھنے والوں کو جرمانہ کیا اور کچھ دکانوں کو سیل کر دیا

خبر شامل کرتے ہیں پھالیہ سے ہمارے نمائندے عقیل پومی کی رپورٹ کے مطابق
انرجی کرائسیز کی وجہ سے حکومتی پابندی پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر پھالیہ کی ہدایت پر انفورسمنٹ انسپکٹر مہر شوکت علی نے 9 بجے کے بعد دکانیں کھلی رکھنے والوں کو جرمانہ کیا اور کچھ دکانوں کو سیل کر دیا


جس پر دکانداروں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کے کاروبار تباہ کر دیے ہیں اوپر سے زبردستی دکانیں بند کرنے سے تاجر عدم تحفظ کا شکار ہورہے ہیں ہیلاں پریس کلب کے صدر رفاقت علی شیخو نے اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور فوری طور پر اس پابندی کو ختم کیا جائے تاکہ مہنگائی بے روزگاری سے پریشان لوگ اپنے بال بچوں کے لیے دال روٹی کما سکیں اے سی پھالیہ کو بھی چاہیے بجائے دکانیں سیل کرنے کے تاجروں سے میٹنگ کر کے کوئی درمیانی حل نکالا جائے اس طرح دکانیں بند کروانے سے مزید حالات خراب ہوں گے اور یہ رویہ اور پابندی تاجروں کا معاشی قتل تصور کیا جائے گا
مزید خبروں سے باخبر رہنے کے لیے وزٹ کریں ہماری ویب سائٹ رٹ نیوز ڈاٹ پی کے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں