63

میڈیا پروفیشنلز اور جرنلسٹس کی جانب سے داِئر کی گئی آئینی پٹیشن کی استدعا منظور کر لی

اسلام آباد(قمر وڑائچ سے)میڈیا پروفیشنلز اور جرنلسٹس کے خلاف غیر قانونی مقدمات کے اندراج اور بلاجواز گرفتاریوں بارے پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن (پی جے اے) کے سرپرست اعلی میاں افتخار علی کی جانب سے داِئر کی گئی آئینی پٹیشن میں طویل دلائل کے بعد عزت مآب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے مزید قانونی نکات پر دلائل کے لیے التوا کی استدعا منظور کر لی۔درخواست گزار کی جانب سے پی جے اے کے لیگل ایڈوائزر ذیشان تیمور گیلانی ایڈووکیٹ نے دلائل پیش کیے۔یاد رہے کہ چند روز پہلے پی جے اے کی کور کمیٹی میں فیصلہ ہوا کہ ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی جائے۔موجودہ حالات میں آئے روز صحافیوں پر جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کا اندراج کی شرح بڑھتی جا رہی ہے جس سے صحافت جیسے مقدس پیشہ کو مجروح کیا جا رہا ہے۔رٹ پٹیشن میں پی جے اے کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ آئی جی پنجاب کو لاہور ہائیکورٹ حکم صادر فرمائے کہ کسی بھی صحافی کے خلاف اگر درخواست تھانہ میں موصول ہوتی ہے تو متعلقہ ٹاؤن ایس پی دونوں فریقین کو خود سننے کے بعد فیصلہ کرے۔نہ کہ متعلقہ ایس ایچ او یا ایس ڈی پی او صحافی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں