72

ڈسٹرکٹ پریس کلب منڈی بہاوالدین کے ممبرز کی طرف سے فلسطینی صحافی کے قتل اور پاکستانی صحافی کے دورہ اسرائیل کی مذمت(قمر وڑا ئچ سے)

(قمر وڑا ئچ سے)
ڈسٹرکٹ پریس کلب منڈی بہاوالدین کے ممبرز کی طرف سے فلسطینی صحافی کے قتل اور پاکستانی صحافی کے دورہ اسرائیل کی مذمت
( پریس ریلیز) ڈسٹرکٹ پریس کلب منڈی بہاوالدین کے ممبرز نے اپنے بیان میں امریکی پاکستانیوں کے ایک وفد کے ساتھ پاکستانی صحافی کے دورہ اسرائیل پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحقیقات کرے کہ سرکاری ٹی وی سے وابستہ ایک صحافی نے کس طرح سےایک ایسے ملک کا دورہ کیا جس کو فلسطینیوں کی زمینوں پر اس کے ناجائز قبضے اور ظلم وبربربیت کی وجہ سے پاکستان نے تسلیم نہیں کیا ہے۔ڈسٹرکٹ پریس کلب منڈی بہاوالدین کے رہنماٶں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب قابض اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں پر ظلم و ستم کو دنیا کے سامنے لانی والی بہادر فلسطینی صحافی شیرین ابو عاقلہ کو شہید کردیا اور یہی نہیں بلکہ جب شہید صحافی کو آخری رسومات لے جایا جارہا تھا تو اس پر حملہ کردیا۔ جب فلسطینی صحافی کو شہید کیا گیا تو دورہ کرنے والے پاکستانی صحافی نے اس کی مذمت کی بجائے قابض ریاست کے جھوٹ پر مبنی سرکاری موقف جس میں اس قتل کے ذمہ دار فلسطینیوں کو قرار دیا گیا تھا کو ایک ٹویٹ کے ذریعے آگے بڑھانے کی مذموم کوشش کی جو انتہائی شرمناک بات ہے رہنماٶں مزید کہا کہ فلسطینی زمین پر قبضے اور فلسطینیوں پر ظلم و ستم کی شرمناک تاریخ ہے جس کی وجہ سے چند ایک کے علاوہ بیشتر مسلمان ممالک نے اسرائیل کو تمام تر دبائو اور لالچی حربوں کے باجود تسلیم نہیں کیا ہے مگر اب یہ کوشش ہورہی ہے کہ کسی طرح فلسطین پر اسرائیلی قبضے کو جواز بخشننے کے لیے اسے مسلمان ممالک بطور خاص دنیا کی واحد نیوکلیئر مسلمان ریاست پاکستان سے تسلیم کروایا جائے، امریکی وفد کا دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی اور ایک ایسے وفد میں پاکستانی صحافی کی شمولیت شرمناک بات ہے۔
مگر فلسطینی صحافیوں کو مخاطب اور ان کے ایک حالیہ بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی پاکستانیوں کے وفد میں پاکستانی صحافی کی شمولیت پر فلسطینی صحافی بھائیوں کا غم و غصہ جائز ہے مگر ہم ان کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ پاکستانی صحافی اپنے فلسطینی بھائیوں اور وہاں اسرائیلی جارحیت اور ظلم و استبداد کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے جان کی بازی لگانے والے فلسطینی صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستانی عوام کے ساتھ یہاں کے صحافی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کی جانی والی مذموم کوششوں کو ناکام بنادیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں