190

مختصر تاریخ: ضلع منڈی بہاءالدین وسطی پنجاب کے علاقہ چج دوآب میں واقع ہے

منڈی بہاءالدین
مختصر تاریخ:
ضلع منڈی بہاءالدین وسطی پنجاب کے علاقہ چج دوآب میں واقع ہے۔ اس کی شمالی سرحد دریائے جہلم اور جنوبی سرحد پر دریائے چناب بہتا ہے۔ اس ضلع کو 1993 میں ضلع کا درجہ دیا گیا۔ اگر ہم تاریخ میں جائیں یہ علاقہ تاریخی طور پر کافی اہمیت کا حامل ہے۔ سکندر اعظم اور راجہ پورس کے درمیان جنگ “دی بیٹل آف ہائڈاسپس(دریائے جہلم کا پرانا نام)” بھی ضلع منڈی بہاءالدین کے ایک گاؤں”ٹبہ مونگ”اور اس کے مضافات میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں سکندر زخمی ہو گیا اور اس کا گھوڑا یہاں سے 30-35 کلومیٹر فاصلے پر واقع ایک بستی میں مر گیا۔ سکندر کے گھوڑے کا نام “بیوسی فالس” تھا۔ سکندر نے اسی کے نام پر وہاں ایک بستی کی بنیاد رکھی جس کا نام اپنے گھوڑے کے نام پر رکھا ۔ یہی نام بعدازاں بگڑتے بگڑتے”پھالیہ” بن گیا جو کہ ان دنوں منڈی بہاءالدین کی تحصیل ہے۔
سکھ خالصہ راج اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے مابین ایک تاریخی معرکہ”دی بیٹل آف چیلیانوالہ” بھی اسی ضلع کے مشہور قصبے چیلیانوالہ میں لڑی گئی۔ جس میں کام آنے والے برطانوی فوجیوں کی یاد میں ایک مونومنٹ بھی تعمیر کیا گیا ہے۔

تنظیم:
اس ضلع کی تین تحصیلیں ہیں۔
1-منڈی بہاءالدین
2-پھالیہ
3-ملکوال
مزید یہ کہ نئی حلقہ بندیوں کے مطابق اس ضلع میں دو قومی اسمبلی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستیں ہیں۔

جغرافیہ:
اس ضلع کے شمال میں جہلم، جنوب میں گوجرانولہ اور حافظ آباد، مشرق میں گجرات اور مغرب میں سرگودھا واقع ہے۔ اس کا کل رقبہ 2673مربع کلومیٹر ہے اور 2017 کے سروے کے مطابق آبادی 16 لاکھ ہے۔
مشہور شخصیات:
اگر ہم سیاسی حوالے سے دیکھیں تو ضلع منڈی بہاءالدین کی اہم شخصیات میں جسٹس (ر) رفیق احمد تارڑ (سابق صدر پاکستان)، وسیم سجاد(سابق چیئرمین سینیٹ)، چوہدری محمد اسلم (سابق سینیٹر)، سید حسن عسکری (سابق وزیراعلی پنجاب)، ندیم افضل چن (سابق ترجمان وزیراعظم)، ناصر اقبال بوسال(ایم۔این۔اے)،نذر محمد گوندل (سابق وفاقی وزیر)، پیر بنیامین رضوی (سابق وزیر)، حاجی امتیاز احمد(ایم۔این۔اے)، محترمہ حمیدہ وحیدالدین (ایم۔پی۔اے) اور چوہدری ارشد محمود ککو شامل ہیں۔
اگر بیوروکریسی میں دیکھیں تو محمد اجمل گوندل (آڈیٹر جنرل آف پاکستان) ، محمد خان بھٹی (سیکرٹری پنجاب اسمبلی) اور امداد اللہ بوسال (ایڈیشنل سیکرٹری) کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔ اس کے علاوہ پولیس اور دیگر سول سروسز میں متعدد افسران ایسے ہیں جو کہ اس ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔
ضلع منڈی بہاءالدین کو اگر پاکستان میں ججوں کی سرزمین کہا جائے تو یہ بے جا نہ ہوگا۔ اس وقت منڈی بہاوالدین کے 5جسٹس صاحبان، 1 سیشن جج، 31ایڈیشنل سیشن ججز، 12سینیئر سول ججز، اور 62 سول ججز مختلف جگہوں پر اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
اگر ادبی حوالے سے دیکھیں تو مستنصر حسین تارڑ (سفرنامہ نگار)، امرتا پریتم (ناول نگار)،دائم اقبال دائم(پنجابی شاعر)، ملک رام باویجہ(سکالر)، شوکت علی(گلوکار) کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔

اہم مقامات:
صدر گیٹ(شہر کا مین دروازہ جسے 1933 میں تعمیر کیا گیا۔)
ملکوال جنکشن
رسول بیراج
دربار حضرت نوشہ گنج بخش (رنمل شریف)
پاکستان رینجرز اکیڈمی
شاہ تاج شوگر ملز
ہیڈ قادرآباد
قتل گڑھ(چیلیانوالہ)
گردوارہ بھائی بنوں
گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی رسول قائم شدہ 1912

مشہور ڈشزا اور سوغاتیں:
ساگ، پنجیری، گڑ

منڈی بہاءالدین کے لوگ بہادر، غیرت مند، اور انتہائی مہمان نواز ہیں۔ اس علاقہ میں زیادہ تر جٹ برادی موجود ہے جن میں گوندل،رانجھے، ساہی، تارڑ، وڑائچ اور کھرل زیادہ ہیں۔ 97٪لوگ پنجابی زبان بولتے ہیں اور 2.5٪ لوگ اردو بولتے ہیں۔ علاقہ انتہائی زرخیز ہے اسی لیے پیداواری لحاظ سے ملک میں کافی اہمیت کا حامل ہے۔
تحریر:
حامد مسعود گوندل (طالبعم انٹرنیشنل ریلیشنز، ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں