76

ویلڈر منشیات فروش انسانی سمگلر کباڑیے عطائی ڈاکٹر صحافت کا لبادہ اڑھ کر سرکاری دفاتروں میں ڈیرے جمائے بیٹھے ہیں

ویلڈر منشیات فروش انسانی سمگلر کباڑیے عطائی ڈاکٹر صحافت کا لبادہ اڑھ کر سرکاری دفاتروں میں ڈیرے جمائے بیٹھے ہیں


ڈمی اخبار سوشل میڈیا چینل خوبرو خواتین کا سہارا لے کر سادہ لوح عوام کو لوٹ رہے ہیں
کوئی عطائیوں کو بلیک میل کرتا ہے کوئی پولیس کی ٹی سی پر معمور ہے اور کوئی خبرو چہرے دکھا کر گزر بسر کرتا ہے کیا کمال کی صحافت ہے اس شہر کی
منڈی بہاوالدین (رٹ نیوز )ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسرسرکاری اداروں کو ایسے تمام صحافیوں کی لسٹ بنا کر دیں جو کہ مستند اشاعتی اداروں اور پیمرا کے لائسنس یافتہ ٹی وی چینل سے منسلک ہوں ۔ تاک سرکاری اداروں میں ڈمی اخبارات اور جعلی چینل سے وابستہ کالی بھیڑوں کا داخلہ روکا جاسکے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ایسے ایسے افراد اپنے آپ کو بطور صحافی بنا کر اداروں میں پیش کررہے ہیں جن کا صحافت سے دور کا بھی واسطہ نہ ہے
ہر دوسرے شخص نے جعلی چینل اور ڈمی اخبار کا کارڈ گلے میں لٹکایا ہوتا ہے اور اداروں میں بے جا مداخلت کرتا دکھائی دیتا ہے جس سے شعبہ صحافت میں عملی کردار ادا کرنے والے کہنہ مشق صحافیوں کا استحقاق بُری طرح مجروح ہورہا ہے ۔ یونس شاہد نے ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ماتحت اداروں میں ڈمی صحافیوں کے داخلے کی روک تھام کے لئے احکامات جاری فرمائیں جائیں تاکہ اداروں کی توقیر اورسلامتی برقرار رہے۔
اس سلسلہ میں تمام صحافتی گروپوں کو بھی خود احتسابی کے مراحل عبور کرنا ہو نگے اور اپنی صفوں سے کالی بھیڑوں کو باہر نکالنا ہوگا یہی وقت کا تقاضا ہے ورنہ اس کے بھیانک نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہنا ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں