213

نادرا آفس میں نیا تعنات ہونے والا انچارج کم ماڈل زیادہ لگتا ہے

نادرا آفس میں نیا تعنات ہونے والا انچارج کم ماڈل زیادہ لگتا ہے مردوں سے تلخ کلامی خواتین شریں باتیں
موصوف دفتر میں کم باہر پوش فیملی اور خواتین کو گھیرتے ہیں ان سے ان کا کار خاص ڈیل کرتا ہے پھر کام ہوتا ہے
انچارج کم ماڈل زیادہ نظر آنے والا معظم علی نہ عدالت کے آرڈر اور نا ہی میڈیکل کو مانتا ہے انتہائی بدتعمیز شخص کے خلاف لوگوں کی شکایت پر رٹ نیوز ٹیم کی خفیہ رپورٹنگ کے مطابق تمام الزامات سچ ثابت ہوئے
پاکستان میں کام کرنے والوں کی کمی نہیں ہر محکمے میں نالاٸق اور نکمے لوگ موجود ہیں چھوٹی چھوٹی معمولی غلطیاں جو جان بوجھ کر ۔۔۔۔عملے سے کرواتے ہیں ان غلطیوں کی وجہ سے کتنے دن مہینے سال زلیل ہوتے ہیں خاص طور پر وہ فیملیاں جن کے لوگ دیار غیر میں بستے ہیں جب وہ پاکستان آتے ہیں ان کے بیوی بچوں کے پیپر ان کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی وجہ سے چھٹیاں گزار کر چلے جاتے ہیں لیکن ایک غلطی ان کا کتنا نقصان کرتی ہے یہ تو وہی جانتے ہیں جو بھگت رہے ہیں معظم علی جیسے افسران کے ایجنٹ باہر کھڑے رہتے ہیں جو خواتین اور سادہ لوح لوگوں کو دیکھ کر ان کے اندر بلاتے ہیں ان کو پروٹوکول دے کر ان کے کام میں غلطیاں نکالتے ہیں اور پھر ان سے ڈیمانڈ کرکے ان کے کام کرتے ہیں اگر کوئی ان کی ڈیمانڈ پوری نہ کرے تو وہ بیچارہ مہینوں بلکہ سالوں چکر لگاتا رہتا ہے لیکن یہ شناختی کارڈ کے اصول کے راستے میں جتنی ڈال سکتے ہیں ڈالتے ہیں یہ ایک ایسا مافیا ہے کہ ان کے خلاف کوئی بات کرے کوئی خبر لگائی ہے یا ان کی نشاندہی کرے تو ان کے پالتو اور اور بے نام و نشان آئی ڈی سے طوفان لے آتے ہیں ہیں اور آن لائن کم ہم اور کرپٹ افسروں کی کی تعریفیں یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ان کو فرشتہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ہماری ان لوگوں سے گزارش ہے کہ اگر آپ میں ہمت نہیں اس مافیا سے ٹکرانے کی ان کے خلاف بات کرنے کی تو جو ان کے خلاف رپورٹنگ کرتے ہیں یا دلیری دکھاتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ ان کے خلاف ہیں سوشل میڈیا پر پر تنقید کے نشتر گھر چلائیں ایسے کرپٹ افسران کو عوام پر مسلط کرنا ظلم ہے زیادتی ہے ان لوگوں کی جو ان کی سفارش کرتے ہیں رشوت لے کر بھرتی کروا دیتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں