65

”تحریک عدم اعتماد!! ملکی سیاست میں نئی بات نہیں“

”تحریک عدم اعتماد!! ملکی سیاست میں نئی بات نہیں“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیر اعظم عمران خان کیخلاف اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے پر حکومت عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے کےلئے تمام سرکاری وسائل کا بھرپور استعمال کر رہی ہے اور اپوزیشن نے تحریک کو کامیاب بنانے کیلئے تجوریوں کے منہ کھول دیئے ہیں، اپوزیشن نے پی ٹی آئی کے 12 ارکان سندھ ہاﺅس اسلام آباد میں شو کیے تو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اسلام آباد ہاﺅس پر دھاوا بول کر اپنے رد عمل کا اظہار کیا، جبکہ باغی ارکان قومی اسمبلی کے آبائی علاقوں میں بھی کپتان کے کھلاڑی احتجاج کر رہے ہیں اور کئی ارکان اسمبلی کیخلاف ہونے والے مظاہروں میں کارکنوں نے بینروں کے ساتھ لوٹے بھی اٹھا رکھے تھے، اور ان کا مطالبہ تھا کہ ہم نے ووٹ کپتان کو دیا ہے باغی ارکان اسمبلی ہمارا ووٹ آصف زرداری کو بیچ رہے ہیں، اس طرح ملک میں سیاسی کشیدگی کا سا ماحول ہے، پی ڈی ایم کی اپوزیشن جماعتوں نے 23 مارچ کو اسلام آباد میں دھرنا دینا تھا، لیکن اپوزیشن نے اعلامیہ جاری کر دیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں ہونے والی او آئی سی کانفرنس پر اثر انداز نہیں ہونا چاہتیں کیونکہ او آئی سی میں شامل ممالک کے آنے والے مہمان ہمارے لیے باعث افتخار ہیں، اپوزیشن نے 25 مارچ تک کارکنوں کو اسلام آباد نہ پہنچنے کا کہا ہے، جبکہ حکومت نے بھی تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کیلئے حکمت عملی تبدیل کر لی ہے، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے 21 مارچ کو اسمبلی کا طلب کیا جانے والا اجلاس اب 25 مارچ کو بلوانے کا فیصلہ کیا ہے، اس اجلاس میں محدود کارروائی ہو گی، اور پھر یہ اجلاس ملتوی کر دیا جائے گا، اجلاس کی تاریخ تبدیل کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ او آئی سی اجلاس کے باعث اسمبلی سمیت اسلام آباد کا کنٹرول وزارت داخلہ کے پاس ہے۔ یہ سب کچھ کپتان کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے جانے کی وجہ سے ہو رہا ہے، اپوزیشن اور حکومت ایک دوسرے پر تنقید کے نشتر برسا رہی ہے، کل تک کے حلیف آج حریف بنے بیٹھے ہیں اور کپتان کی حکومت کو گرانے کیلئے پی ٹی آئی کے کئی ارکان اپوزیشن کی چھتری تلے جا پہنچے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک صرف دو بار اسمبلیوں نے اپنی مدت کا دورانیہ پورا کیا، باقی حکومتیں قبل از وقت مختلف طریقوں سے ختم ہو گئیں۔
1990 میں جب صدر غلام اسحاق نے نوازشریف حکومت کو گھر بھجوایا تو محترمہ بینظیر بھٹو نے صدر غلام اسحاق کی مدد سے پنجاب میں آئی جے آئی کی حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنایا، پنجاب میں آئی جے آئی کی 209 سیٹیں تھیں اور آئی جے آئی کو 2 تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل تھی، غلام حیدر وائیں وزیر اعلی پنجاب اور میاں منظور احمد وٹو سپیکر پنجاب اسمبلی تھے، تو منظور احمد وٹو نے 17 حکومتی ارکان کا فارورڈ بلاک بنا لیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے استعفے دینے والے صوبائی وزراءکی لائن لگ گئی، ارکان صوبائی اسمبلی کا ضمیر بھی جاگ گیا اور وہ اسی طرح بغاوت پر اتر آئے جس طرح آج کل کپتان کے 12 کھلاڑی وفاق میں باغی بنے بیٹھے ہیں، پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ حکومتی اتحاد میں صرف 20 لوگ رہ گئے، غلام حیدر وائیں کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی، میاں نواز شریف کے کارکنوں نے اسمبلی کا گھیراو¿ کرنے کی کوشش کی اور احتجاج کی کوشش کی تو انہیں مال روڈ پر روک لیا گیا، 25 اپریل 1993ءکو عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ والے دن پنجاب اسمبلی کے اندر مسلم لیگ کے 20 اراکین نے باغی گروپ پر دھاوا بول دیا، ایک گھنٹہ تک پنجاب اسمبلی میں جنگ کا سا سماں رہا، اسمبلی ہال کی نہ کوئی کرسی بچی نہ مائیک، تاہم اس دھینگا مشتی اور مچھلی بازار میں غلام حیدر وائیں کیخلاف تحریک عدم کامیاب ہوگئی اور میاں منظور احمد وٹو وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے، وفاق میں نوازشریف عدالتی فیصلے کے ذریعے بحال ہوئے لیکن صدر کی 58 ٹو B کی طاقت اپنی جگہ موجود تھی پھر حالات ایسے پیدا ہوئے کہ صدر اسحاق خان اور وزیر اعظم نواز شریف کو مستعفی ہوناپڑا، یوں محترمہ بینظیر بھٹو نے نوازشریف سے اپنی پہلی حکومت گرانے کا بدلہ لے لیا، اور وہ 1993 میں دوسری بار اقتدار میں آئیں تو میاں نوازشریف نے صدر فاروق لغاری کی مدد سے 1996 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو پھر گھر بھجوا دیا۔
سو بات کہاں سے کہاں نکل گئی بات ہو رہی تھی ملک میں سیاسی گرما گرمی کی تو کپتان کی حکومت عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے کیلئے تمام حکمت عملی اور وسائل استعمال کر رہی ہے، 21 مارچ کو ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس بوجہ او آئی سی کانفرنس 25 مارچ تک ملتوی کر دیا گیا ہے، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کہتے ہیں کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا سپیکر قومی اسمبلی کا اختیار ہے، اس طرح قومی اسمبلی کے اجلاس میں مزید تاخیر بھی ہو سکتی ہے، حکومت باغی ارکان کو نا اہل کروانے کیلئے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے بھی جا رہی ہے، جس میں آرٹیکل 63 کی تشریح پر رائے مانگی جائے گی؟ سپریم کورٹ اس پر کیا رائے دے گا یہ کہنا قبل از وقت ہے، جبکہ یہ بھی شنید ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے کیلئے ایک صدارتی آرڈیننس لایا جا رہا ہے جس میں پی ٹی آئی کے باغی ہونے والے ارکان کو آئین کے آرٹیکل 63 کی خلاف ورزی کو بنیاد بناءپر نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے؟ کپتان 27 مارچ کو اسلام آباد میں کھلاڑیوں کا پاور شو بھی کرنے جا رہے ہیں اور وزراءکو 10 لاکھ کھلاڑی اکٹھا کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے، کپتان اب بھی مایوس نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ نہ جھکوں گا نہ بکوں گا اور نہ ہی این آر او دوں گا، کپتان کے پاور شو سے پہلے اپوزیشن بھی 26 مارچ کے بعد کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے کی کال دینے کی پلاننگ کر رہی ہے، اس طرح اپوزیشن اور پی ٹی آئی کارکنوں میں ٹکراﺅ کا ماحول پیدا ہو گا، جس کا فائدہ کون اٹھائے گا یہ کہنا قبل از وقت ہے لیکن یہ بات ببانگ دہل کہی جا سکتی ہے کہ مارچ کا آخری عشرہ اور اپریل کا پہلا عشرہ ملکی سیاست میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں