65

پاکستان بھی ان ملکوں میں شامل ہے جہاں پر لیبر ڈے بڑے جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے لیکن مزدور فوڈ پانڈا کا ہو یا کسی بڑے ادارے کا اس کے مسائل کم نہیں ہوتے

پاکستان بھی ان ملکوں میں شامل ہے جہاں پر لیبر ڈے بڑے جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے لیکن مزدور فوڈ پانڈا کا ہو یا کسی بڑے ادارے کا اس کے مسائل کم نہیں ہوتے


یہ جو مزدور آپ دیکھ رہے ہیں یہ فوڈ پانڈا کے ہیں جو اپنے حقوق کے لیے تین دن ہڑتال اور احتجاج کے بعد فاقوں سے بچنے کے لیے دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر آ گئے
گرمی ہو یا سردی ہم نرم بستر پر بیٹھ کر ایک میسج ایک فون کال کرتے ہیں اور کھانا ہو ادویات ہو یا کوئی بھی آئٹم ہو ہمیں گھر پر مل جاتیں ہیں یہ رائیڈر جو فوڈ پانڈا کے ملازم ہیں اس بات سے ڈرتے ہیں کہ میڈیا پر ہم بات کریں گے تو شاید ہمیں بلیک لسٹ یا نوکری سے نکال دیا جائے گا ہماری نیوز ٹیم کو خفیہ ذرائع سے معلوم ہوا کہ فوڈ پانڈا والے تین چار دن سے نہیں آئے پتہ چلانے کے لئے کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ ان رائیڈر حضرات کے جائز مطالبات جو کہ فوڈ کمپنی نے نہیں مانے اور نہ ہی ان کی بات پر کوئی توجہ دی گئی یہ لوگ ہاں فاقوں سے بچنے کے لیے بیروزگاری سے تنگ دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر آ گئے اور یہ لوگ مایوس کھڑے تھے تو ہم نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی تو یہ لوگ کیمرہ دیکھ کر بھاگ گئے جب کہ آپ سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے میڈیا پر بات نہیں کرنا چاہتے جہاں ملک میں بڑھتی بے روزگاری مہنگائی نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے وہاں ان مزدور نوجوانوں کو جو کہ اسٹوڈنٹ ہیں اور سنہری مستقبل کے لیے محنت مزدوری کرتے ہیں حکومت وقت کو چاہیے کہ ان مزدوروں کے لیے کچھ خاص انتظام کریں اور فوڈ پانڈا جیسی کمپنیوں کو پابند کرے کہ مزدور کی حق تلفی نہ کی جائے مزید خبروں کے لیے دیکھتے رہیں رٹ نیوز پڑھتے ہیں روزنامہ رٹ اور وزٹ کریں ہماری ویب سائٹ رٹ نیوز ڈاٹ پی کے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں