93

سرائیکی اجرک کا دن سرائیکی زبان کی مٹھاس، وسیب کی علمی خوشبو اور فکری بصیرت کو چہار دانگ عالم روشناس کرانے کے سلسلے میں مسلمہ اہمیت کا حامل ہے میاں عامر صدیقی صدر پریس کلب اوچشریف

سرائیکی اجرک کا دن سرائیکی زبان کی مٹھاس، وسیب کی علمی خوشبو اور فکری بصیرت کو چہار دانگ عالم روشناس کرانے کے سلسلے میں مسلمہ اہمیت کا حامل ہے
میاں عامر صدیقی صدر پریس کلب اوچشریف

چنی گوٹھ(محمد فہیم شاہد)

میاں عامر صدیقی نے پریس کلب میں ممبران کو سرائیکی اجرکیں پیش کرنے کے موقع پر اظہار خیال کرتے
ہوئے کہا ہے کہ اجرک “ازرق” سے ماخوذ ہے جو عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی نیلے رنگ کے ہیں، عرب افواج جب محمد بن قاسمؒ کی سربراہی میں یہاں پہنچیں تو انہوں نے نیلے رنگ کی چادریں اوڑھی ہوئیں تھیں پھر عجمی لوگوں نے “ز” کو “ج” میں تبدیل کر کے اس کا نام “اجرک” رکھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ کائنات کا رنگ نیلا ہے، دنیا میں تھوڑا حصہ خشکی کا ہے باقی سارا پانی ہے اور پانی کا رنگ نیلا ہے، صوفیائے کرام کا پسندیدہ رنگ بھی نیلا ہے جبکہ دریائے سندھ کو نیلاب بھی کہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ سرائیکی وسیب نیل کی کاشت کا بہت بڑا مرکز ہے اور بہت سی جگہوں کا نام بھی نیل پر ہے جیسے نیل کوٹ اور نیل گڑھ وغیرہ، میاں عامر صدیقی اور خواجہ غلام شبیر نے کہا کہ آج سرائیکی اجرک ڈے کے موقع پر سرائیکی وسیب کے لوگ پوری دنیا کو امن کا پیغام دے رہے ہیں، سرائیکی اجرک کے نیلے رنگ ابدیت کی قدیم نشانی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں