90

ڈی پی او سے ملاقات

لاکھوں کروڑوں درود آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی آل پر
====== ڈی پی او سے ملاقات

ہے===
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں میرا آپ کو سلام پہنچے صحافیوں کے مسائل اور ان کے حل کے لیے ڈسٹرکٹ پریس کلب کے وفد کی ڈی پی او منڈی بہاؤالدین انور سعید کنگرہ سے ان کے چمبر میں ہونے والی ملاقات میں چیئرمین ڈسٹرکٹ پریس کلب شہزاد حسن چودھری نے سینئر جرنلسٹ جہانگیر انصاری کے بیٹے کے ساتھ ہونے والے واقعہ اور تشدد کی شکایت کی اور تھانہ سٹی کے ناروا سلوک پر حالات سے آگاہ کیا
یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
ڈی پی او منڈی بہاولدین جو کہ نہایت اچھے دلیر آفیسر ہیں انہوں نے فوراً کارروائی کا حکم دیا اور دفعات بھی ایڈ کرنے کے مقامات جاری کردیئے جس پر تھانہ سٹی کی پولیس حرکت میں آئی حسب روایت مقامی پولیس تھانہ سٹی نے ڈی پی او کو غلط گائیڈ کرتے ہوئے ملزم کو نہ گرفتار کیا اور دفعہ آزاد کرنے میں بھی ٹال مٹول سے کام لیا پکڑنے کی بجائے ملزم کو ٹائم دے دیا الٹا مدعی مقدمہ کو کہا راضی نامہ کر لوغور کریں اب ہم سب لوگ میڈیا سول سوسائٹی عام لوگ کرپشن سرعام رشوت لاقانونیت کا ذمہ دار ڈی پی او منڈی بہاؤالدین کو سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے آپ کے سامنے جو باتیں کر رہا ہوں یہ اصل حقائق ہیں چاہے کوئی اس بات کی تصدیق کرلے روزنامہ پاکستان کے عرصہ دراز سے نمائندے مقامی ہفت روزہ اخبار کے چیف ایڈیٹر جہانگیر انصاری کے بیٹے کوکچھ اوباش نوجوانوں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں جس پر ڈی پی او منڈی بہاوالدین نے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے سخت ایکشن لیا مقدمہ درج ہوا ایس ایچ او کو کارروائی کی ہدایت کی ایس ایچ او سے اچھا تعلق ہے احترام کا رشتہ بھی اور جب سے موصوف تھانہ سٹی ایس ایچ او لگے ہیں میں زاتی طور پر تھانے میں مداخلت تھانے جانا ایک صحافی کا غیر ضروری سمجھتا ہوں ہم ایس ایچ او کے پاس گئے لیکن کوئی خاطر خواہ رزلٹ نہیں نکلا اچھا تعلق ہونے کے باوجود لالی پاپ دیا گیا حالانکہ سب جانتے ہیں ہم لالی پاپ برداشت نہیں کرتے نہ ہی کریں گے دوستی تعلق کے باوجود
لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری
ہم تو تری دوستی سے ڈرتے ہیں
ایس ایچ او بجائے ملزم کو پکڑتا ملزم کو بند حوالات کرتا اور قانونی تقاضے پورے کرتا الٹا مدعی کو دھمکیاں گالم گلوچ آوازیں کسنا ایس ایچ او کی ایما پر ہونے لگا جس پر صحافی برادری سیخ پا ہو گئیں اور دوبارہ ڈی پی سے رابطہ کیا گیا تو ڈی پی او منڈی بہاوالدین نے دوبارہ کارروائی کی ہدایات جاری کر دیں لیکن تاحال کارروائی نہ کی گئی ہے ہے بات کرنے کا مقصد آپ کے سامنے یہ تھا کہ ایس ایچ او سیاسی پوسٹ ہے ہر ایم این اے ایم پی اے عوامی نمائندہ اپنے اپنے ایریے میں جو کہ اپنے اپنے مقاصد کے لیے ایس ایچ او لگواتا ہے مقامی پولیس کو استعمال کرتا ہے حکومت وقت کوئی بھی ہو ہر حکومت نے پولیس کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا ایم این اے نے اپنی مرضی سے اپنے تھانے میں اپنا تھانیدار لگوایا اور سیاسی حکومت نے مقامی سیاسی قیادت سے مشاورت اور مرضی کے ڈی پی او ڈی سی بھی اپنی مرضی سے لگوائے ہم انصاف چاہتے ہیں بڑی سیٹ سے یعنی ڈی پی او سے ڈی پی او منڈی بہاؤالدین انور سیٹنگ نہایت اچھے خوش اخلاق محبت پیار اور رواداری کو قائم رکھنے والے آفیسر ہیں ہمیشہ انہوں نے کام کیا عزت دی لکھنے پڑھنے اور جاننے والے جانتے ہیں کہ ڈی پی او ڈی پی او کا کام تفتیش کرنا نہیں انکوائری بھی اس سیٹ کا کام نہیں ڈی پی او کا کام ہے درخواست متعلقہ افسران کے پاس بھیجنا اور احکامات جاری کرنا کہ انصاف کیا جائے انصاف کرنے کی ایک اسٹوری میں نے آپ کو سنائی ہے وہ بھی ایک سینیئر ترین جرنلسٹ روزنامہ پاکستان کے عرصہ دراز دہائیوں سے نمائندے ذاتی نیوز پیپر کے چیف ایڈیٹر تھانہ سٹی کے چند قدم کے فاصلے پر رہنے والے جنگیر انصاری کے بیٹے پر ہونے والے تشدد کی اس سنئیر جرنلسٹ کے ساتھ سلوک سے اندازہ لگائیں کہ عام آدمی کا کیا حال ہوگا اس کیس میں نے آپ کو بتانے کی پوری ایمانداری سے کوشش کی ہے کہ ڈی پی او منڈی بہاوالدی نے اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری سے کی جس پر ہم ڈسٹرکٹ پریس کلب کے تمام عہدے داران شکرگزار ہیں ہمارے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ مقامی پولیس کر رہی ہے جو ہم میں سے ہیں ہمارے ہیں ہمارے بھائی ہیں میں آج ایک لمبے عرصے کے بعد آپ سب سے مخاطب ہوں ڈی پی او اور ساری پولیس ایک جیسے نہیں ہوتے پولیس والے بہت اچھے ہیں لیکن چند ایک لوگ اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے عوام کے حقوق کو پامال کرتے ہیں اور سارا ملبہ ڈی پی او منڈی بہاوالدین پر ڈال دیا جاتا ہے ڈی پی او نے کوئی خود جا کر کسی کی حفاظت نہیں کرنی تھانے میں بیٹھنا نہیں ان کا کام ہے کہ سائل کی داد رسی کے لیے مقامی افسران کو ہدایت جاری کرنا انکوائری کروا کر کے انصاف کرنا اب انکوائری کرنے والے پولیس کے وڈے نکے تھانیدار سیاسی ڈیروں کے ذاتی ملازم ہیں ان جو حکم ادھر سے آئے گا اس کو یہ مانیں گے اپنے افسران کے حکم کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیں گے کیونکہ جب یہ معطل ہوں گے تو دوسری جگہ ایم این اے ایم پی اے یا کوئی وڈیرہ ان کو لگوائے گا اس لیے یہ ڈی پی او منڈی بہاؤالدین کے مطابق حکم کے پابند نہیں ہوتے یہ آپ کے ایم این اے ایم پی اے کے ذاتی ملازم ہیں تنقید کرنی ہے تو وہ ڈی پی او کی بجائے ان سیاسی وڈیروں پر کریں سوشل میڈیا پر طوفان برپا کرنے والے ڈی پی او کی بجائے سیاسی قیادت کا چناؤ کرتے وقت عقل سے کام لیا کریں قتل و غارت کنٹرول کرنا چوری ڈکیتی سب سے کیسے بچاؤ ایس ایچ او کا کام ہے تمام تھانوں کے ایس ایچ او ہماری مقامی سیاسی قیادت کے قبضے میں ہیں نہ کہ ڈی پی او کے انور سعید کنگرہ ایک نہایت اچھے افسر ہیں انہوں نے ہمارے لیے قانونی کارروائی بھی کی جس پر ہم سب ان کے شکر گزار ہیں باقی ہم سب اپنی سیاسی قیادت کے رحم و کرم پر ہیں دیکھتے ہیں آگے ہوتا ہے کسی بھی معاملہ میں پولیس پر تنقید کرنے سے پہلے آپ کسی بھی کیس کو نکال کر دیکھ لیں مدعی کے ساتھ بھی سیاسی قیادت ہوگی اور ملزم کے ساتھ بھی کوئی سیاسی ٹاؤٹ ہوگا ان کے اپنے مقاصد ہوں گے ہم سب کو مل کر سوچنا چاہیے کہ جب تک ہماری سیاسی قیادت ٹھیک نہیں ہوگی میرٹ نہیں ہوگا تب تک حالات ایسے ہی رہیں گے ووٹ دینے سے پہلے اپنے اردگرد شہر کا حال بھی دیکھیں اور اپنے مقامی تھانے میں سیاسی مداخلت کو بھی چیک کریں
آئیندہ الیکشن میں دہائیوں سے ہم پر مسلط سیاسی قیادت کی ورکنگ کو بھی ضرور دھیان میں رکھیں اور تھانوں میں سیاسی پرچے اور سیاسی انتقامی کاروائیوں کو بھی ضرور چیک کریں اللہ تعالی ہم سب کو ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی ہمت اور توفیق دے اور آپ کو ہر قسم کی مصیبت سے دور رکھے
جو ہو نہ سکی بات چہروں سے عیاں تھی
حالات کا ماتم تھا ہماری ملاقات کہاں تھی
شہزاد حسن چوہدری
چیئرمین ڈسٹرکٹ پریس کلب منڈی بہاؤالدین
ایڈیٹر انچیف رٹ نیوز نیٹ ورک
صدر سیما ویلفیئر فاؤنڈیشن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں