57

پھالیہ پولیس امن و امان قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

پھالیہ پولیس امن و امان قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔قتل و غارت،ڈکیتی،رہزنی چوری اور چوکوں چوراہوں میں سر عام فائرنگ کے واقعات سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے نامزد امیدوار برائے صوبائی اسمبلی میاں عبدالرووف ایڈووکیٹ نے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ایک ماہ قبل تھانہ پھالیہ کے علاقہ دالہ چک میں دوران ڈکیتی قتل ہونے والے سہیل کے مقدمہ میں آج تک کوئی پیش رفت نہ ہوئی ہے۔نجی کالج کے طالب علم عثمان پر بااثر افراد کے بہیمانہ تشدد کے بعد مقدمہ تو درج کر لیا گیا لیکن ملزمان کی عبوری ضمانتیں کروا کر ان کی گرفتاری کا ڈرامہ کر کے آئی جی پنجاب کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکی گئ اور بعد ازاں پھالیہ پولیس نے مضروب عثمان اور اس کے اہل خانہ کو بلیک میل کرنے کے لیے سیاسی دباؤ کے تحت مضروب کے خلا ف اغوا کا ایک باالکل جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کر دیا جو سراسر ظلم ہے جسے ہم کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ہیلاں میں ہونے والی چوریوں،ڈکیتیوں کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔انہوں نے کہا کہ ایس ایچ او پھالیہ انتہائی نااہل ہے جسے عوام کے مال و جان کے تحفظ کی بجائے ہمیشہ اپنے سیاسی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر نااہل اور بددیانت ایس ایچ او پھالیہ ساجد بھٹی کو تھانہ پھالیہ سے تبدیل کیا جائے اور اس کی جگہ کسی قابل اور محنتی آفیسر کو تعینات کیا جائے۔عثمان پر درج اغوا کا جھوٹا مقدمہ فوراً خارج کیا جائے۔انہوں نے ڈی پی او سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اگر ایس ایچ او پھالیہ کو نہ بدلا گیا ۔تین دن کے اندر ہمارے مطالبات منظور نہ کیے گئے تو ہم ڈی پی او منڈی بہاؤ الدین کے دفتر کا گھیراؤ کریں گے اور امن و امان کی خوفناک صورتحال پر شدید احتجاج کریں گے۔اس موقع پر دوران ڈکیتی قتل ہونے والےسہیل ،تشدد کا شکار عثمان اور دیگر واقعات میں متاثرین کے علاوہ معززین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں