99

کچھ لوگ داستانیں چھوڑ جاتے ہیں

لاکھوں کروڑوں درود آپ پر اور آپ کی آل پر
دنیا میں کچھ لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں کہانی ختم اور کچھ لوگ داستانیں چھوڑ جاتے ہیں اور کچھ لوگ دنیا میں ایسا کر جاتے ہیں کہ لوگ صدیوں انہیں یاد رکھتے ہیں منڈی بہاولدین کی دھرتی میں ایسے بہت سارے لوگ آئے اور چلے گئے جن کا نام و نشان تک مٹ گیا لیکن کچھ لوگ دنیا میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے لئے نہیں جیتے بلکہ اپنی زندگی کا مقصد دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنا بنا لیتے ہیں اور عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے ہیں ایسے بہت سارے لوگ ہیں جو اپنی سوچ اور فکر سے ہی بڑی بڑی تبدیلیاں لے آتے ہیں اپنے لیے سب مانگتے ہیں کرتے ہیں اور سوچتے ہیں اور لوگوں کے ایسا کر جاتے ہیں کہ لوگ ان کی خدمات کی مثالیں دینا شروع کر دیتے ہیں ان میں سے آج ایک خوبصورت چہرے اور بے مثال شخصیت کے مالک بیرسٹر گلنواز خان گجر ڈائریکٹر چیمبر آف کامرس یو کے انگلینڈ سے قائد اعظم کی ولادت کے موقع پر قادر آباد پریس کلب کی طرف سے منعقدہ تقریب میں ہوئی جو مجھے کبھی نہیں بھولے گی مجھے ہمشہ ان لوگوں نے متاثر کیا ہے جنہوں نے عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانے کی کوشش کی یاد رکھیں کمزور طبقوں کا ہاتھ تھامنا اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا اچھے معاشرے کی تشکیل کے لیے نا گزیر ہے ۔ یہی مواخات کی عظیم روایت بھی ہے ۔کسی کی آس ٹوٹنے نہ دیں کیونکہ جب تک پاکستان میں ایک شخص بھی غریب ہے ہم سب بھی غریب ہیں
اپنے حطاب میں بیرسٹر گلنواز خان ڈائریکٹر چیمبر آف کامرس انگلینڈ نے کہا کہ مجھے موقع ملا ایدھی ثانی اخوت کے بانی ڈا کٹر امجد ثاقب جہنوں نے غربت کے خاتمہ ‘ انسانی وقار کی بحالی اور بلاسود قرضوں میں ریکارڈ کیا اور انسانی زندگی کو سب بڑا معاشی پرجیکٹ دیا جس سے لاکھوں کروڑوں لوگ مستفید ہورہے ہیں بیرسٹر گلنواز خان ڈائریکٹر چیمبر آف کامرس انگلینڈ نے کہا کہ میں ان کے لیے جو خدمات دیں جب مجھے موقع دیا گیا کہ میں بھی کچھ ان سے مانگ سکوں تو میں نے ان سے کہا کہ میرے علاقے میں اخوت کا ایک دفتر ہونا چاہیے تاکہ میرے علاقے میں بھی عام آدمی کی زندگی بہتر ہو سکے اور لوگ اخوت کے آسان اور بلا سود قرضوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی زندگی میں بہتری لا سکیں تو انہوں نے میری تجویز اور میری ریکویسٹ قبول کرتے ہوئے اخوت کا دفتر بنایا جس سے آج سینکڑوں لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں جسے دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے ہم سب کو اپنے اپنے حصے کا دیا جلانا چاہیے قائد ڈے پر بیرسٹر گلنواز خان ڈائریکٹر چیمبر آف کامرس انگلینڈ کی طرف ہر طبقہ فکر اور مختلف شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے لوگوں کو یادگاری شیلڈ دی گئی اور میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جن لوگوں کو اس عظیم شخص کے ہاتھوں شیلڈ دی گئی مجھے فخر ہے کہ میں نے صحافتی خدمات کے عوض آج تک جو کچھ کیا اس کا صلہ مجھے کیا ملا اس سے غرض نہیں لیکن آج دل خوش ہوگیا اور اپنے پروردگار کا شکر گزار ہوں اور دوستوں کی محبت کا بھی قادر آباد پریس کلب کے صدر انور صاحب اور ان کی ٹیم کا جہنوں نے مجھے شیلڈ خوبصورت سوچ کے مالک اور انقلابی تبدیلیاں لانے والے ایک عظیم سپوت کے ہاتھوں سے دلوائی میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے آخر میں انور صاحب پریس کلب قادر آباد کے صدر جن کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ بلاتفریق انہوں نے پورے ضلع کے سیاسی سماجی اور مذہبی لوگوں کو ایک چھت کے نیچے بٹھا کر ان کی خدمات کے عوض ان کو یادگاری شیلڈوں سے نوازا اور میں اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہوں کہ ڈسٹرکٹ پریس کلب کا چیئرمین ہونے کے ناطے اور دوسرے تمام پریس کلب کسی نے بھی قائد ڈے یا ایسی تقریب کا اہتمام اس سے پہلے نہیں کیا قادر آباد پریس کلب کے صدر انور صاحب اور اس کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ وہ ہمیشہ کی طرح نمبر لے گئے اور دعا گو ہوں اللہ تعالی پریس کلب قادرآباد کو ترقی دے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں