209

کامران شبیر عرف کامی گجر ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں قاتلانہ حملے میں شدید زخمی

کامران شبیر عرف کامی گجر ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں قاتلانہ حملے میں شدید زخمی
سپرٹینڈنٹ جیل کی ملی بھگت سے مخالفین نے کرائے کے قاتلوں کو استعمال کرتے ہوئے حملہ کروایا تاحال اندراج مقدمہ نہ کیا گیا ہے
جہلم( رٹ نیوز )اب لوگ جیلوں میں بھی محفوظ نہیں ڈسٹرکٹ جیل میں حوالاتی کامران شبیر عرف کامی گجر پر مدعی مقدمہ کامران عباس شہزاد پسران اسحاق انصاری صابری محلہ اور پرویز احمد سکنہ واڑہ نے کرائےکے قاتلوں( 1 ) دل خرم ولد محمد علی (2)راسب ولد باقر( 3) توقیر ولد کبیر اور تنویر کو تیس ہزار روپے دیے کہ آپ کامران کو جہلم جیل میں قتل کر دیں ہم نے سپرٹینڈنٹ آفتاب احمد باجوہ سے بات کر لی ہے اور آپ کی مدد ظہیر میکن عدنان شاہ اور دو کس نامعلوم کریں گے بس آپ نے کامران شبیر کو زندہ نہیں چھوڑنا تو مذکورہ افسران اور مدعی مقدمہ کے کہنے پر کامران شبیر عرف کامی گجر پر حملہ کر دیا جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا سات دن گزرنے کے باوجود مقدمہ درج نہ ہوا ہے الٹا سپرٹینڈنٹ جیل آفتاب احمد باجوہ جس نے جیل میں ہر چیز کے ریٹ مقرر کر رکھے ہیں مصوف کامران اور اسکی فیملی کو ہراساں کر رہا ہے صلح کریں ورنہ کامران شبیر کے ساتھ دوبارہ ایسا ہو گا اور چلان کسی اور جیل بھیج دوں گا قصوری بند کر دوں گا اور شدید زخمی ہونے کے باوجود ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے تھانہ سول لائن کے تفتیشی سے رابطہ کیا گیا تو مصووف کا کہنا تھا کہ ہم جیل قوانین کے پابند ہیں سپرنٹنڈنٹ جیل کے احکامات کے بعد ہی مقدمہ درج کریں گے تاحال مقدمہ درج نا کیا گیا ہے جبکہ کامران شبیر عرف کامی گجر کے ورثاء نے وزیراعظم وزیر اعلی آئی جی جیل خانہ جات ڈی آئی جی جیل خانہ جات اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ کامران شبیر کی زندگی کو جہلم جیل میں شدید خطرہ ہے جلد از جلد اور سخت ایکشن لیا جائے اور مذکورہ ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں