120

امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے میں سب سے زیادہ کردار پولیس کا ہےپولیس ہی ہمارے جان و مال کا تحفظ اور ہماری حفاظت کرتی ہے

ہم اور ہمارے محافظ
امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے میں سب سے زیادہ کردار پولیس کا ہےپولیس ہی ہمارے جان و مال کا تحفظ اور ہماری حفاظت کرتی ہے ایک لمحے کیلئے آپ سوچیں کہ اگر پولیس نہ ہو تو ہم ایک دوسرے کا کیا حال کریں لاکھوں کی آبادی اور چند ہزار اہلکار پھر بھی جرائم کو کنٹرول کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے والے ہمارے محافظ تنقید کا نشانہ بنتے ہیں ہم پولیس پر تنقید تو بہت کرتے ہیں لیکن پولیس کے مسائل اور ان کی مجبوریوں کو نہیں دیکھتے لکھتے اور نہ ہی سمجھتے ہیں عام آدمی سول سوسائٹی صحافی اور ہم میں سے کسی کی مرضی کے مطابق کوئی فیصلہ یا کوئی کاروائی نہیں ہوتی تو ہم ان لوگوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ہم آپس کے اختلافات اور دشمنیاں ختم کرنے کی بجائے غصہ پولیس پر نکالتے ہیں لیکن اچھے کمانڈر اور اچھے پولیس آفیسر اپنے اوپر تنقید کو درگزر کر کے پھر بھی ہمارے لئے امن کی راہ ہموار کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں کچھ دن پہلے انجمن تاجران کے دو گروپوں کے درمیان رسہ کشی میں منڈی بہاوالدین پولیس کا کردار بہت اچھا رہا جس میں منڈی بہاوالدین پولیس نے دونوں فریقین کا جائز مطالبات مان کر شہر کو بڑے تصادم سے بچایا اور ڈی پی او منڈی بہاؤالدین نے دونوں پارٹیوں کو دفتر بلاکر مصالحت کی کوشش کی جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی رہےاور اسکا نتیجہ دونوں فریقین ٹیبل ٹاک پر آگیے اور صلح ہوگئی اس صلح میں ڈی ایس پی صدر ملک شبیر اعوان اور ڈی پی او منڈی بہاوالدین ساجد حسین کھوکھر کا کردار قابل ستائش ہے
واحد ڈی پی او ہیں جن سے وکلاء برادری تاجر برادری ہو یا صحافتی تنظیم سمیت کسی نے اختلاف نہیں کیا اور نہ کوئی ہڑتال کی نوبت آئی سب سے بڑی بات کہ وہ ہر شخص سے ملتے ہیں اور سائلین کو عزت بھی دیتے ہیں اور احکامات بھی جاری کرتے لیکن کچھ مسائل ہمیں تھانے کی سطح پر ضرور پیش آتے ہیں کیونکہ تھانے میں تعینات ہمارے ہی ذات برادری دوست احباب اور رشتہ دار تعینات ہیں جو اپنی ذاتی حثیت کو اپنے فرض پر ترجیح دیتے ہیں جس سے سائل پریشان ہوتا ہے لیکن ہمارا مسئلہ تب تک حل نہیں ہو سکتا جب تک ہماری سیاسی قیادت تھانوں میں اثر انداز نہ ہو اور جب تک ہمارے سیاسی ڈیرے کرپٹ اور نااہل نکمے اہلکاروں پر دست شفقت سے باز نہیں آئیں گے تب تک ہمیں تھانوں کی سطح پر مسائل رہیں گے موجودہ پولیس کمانڈر کے ہم لوگ شکر ادا کرتے ہیں کہ سیاسی مقدمات اور انتقامی کارروائیوں پر یقین نہیں رکھتے یقین کریں ہماری صحافت تنقیدی ہونے کے باوجود جب بھی ڈی پی او منڈی بہاؤالدین سے ملاقات ہوئی کسی کام کے سلسلے میں جانا ہوا تو انہوں نے عزت بھی کی کام کا فوری حکم بھی دیا آگے کرنے والے ایس ایچ او صاحبان نکے تھانیداروڈے تھانے دار محرر حضرات ان کی اپنی ہی دنیا ہے وہ کسی سے آج تک ٹھیک نہیں ہوسکے وہ وہی کرتے ہیں جو ان کا دل ہو ان کے سامنے کسی بڑے افسر کا حکم عام آدمی کا سوال یا کسی صافی کی سفارش کوئی معنی نہیں رکھتی وہ کیا کرتے ہیں کیس کام کرتے ہیں یہ آپ اور ہم سب بہت اچھی طرح جانتے ہیں لیکن بات ہو رہی ہے موجودہ پولیس کمانڈر جناب ساجد حسین کھوکھر کی جنہوں نے سزا جزا کا سلسلہ بھی جاری کر رکھا ہے سائلین کی بات بھی سنتے ہیں عزت بھی کرتے ہیں کام کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں اور انتقامی کاروائیاں نہیں کرتے تنقید کو برداشت کرتے ہیں میں اپنی بات کرتا ہوں جب بھی میں نے کسی مسئلے پر لکھا یا ان کو آگاہ کیا اس پر ضرور عمل ہوا اور ہم شکرگزار ہیں ہماری خبروں پر ڈی پی او منڈی بہاؤالدین ایکشن لیتے ہیں اور مظلوم کی داد رسی کی کوشش کرتے ہیں کام کرنے والی اللہ کی ذات ہے انسان کوشش کرسکتا ہے اور جو انسان انسانیت کے لیے کام کرے درد دل رکھے انصاف دینے کی کوشش کرے ہم میں سے بہتر ہے بات ذرا لمبی ہو گئی ہے اس لئے باقی باتیں پھر سہی ہیں آخر میں ڈی پی او منڈی بہاولدین کا پرسنلی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ہماری خبروں پر ایکشن لے کر مظلوم لوگوں کی داد رسی کی اور پولیس ملازمین کو ان کے عہدے پر بحال کیا اللہ تعالی ان کے مرتبے اور منصب میں اضافہ فرمائے ہم سب کو ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی ہمت اور توفیق دے اور ایک دوسرے کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کا حوصلہ عطا کرے
شہزاد حسن چوہدری
ایڈیٹر انچیف رٹ نیوز نیٹ ورک
چیئرمین ڈسٹرکٹ پریس کلب منڈی بہاوالدین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں