142

ڈی پی او منڈی بہاؤالدین ساجد حسین کھوکھر کے نام کھلا خط

لاکھوں کروڑوں درود آپ پر اور آپ کی آل پر
ڈی پی او منڈی بہاؤالدین ساجد حسین کھوکھر کے نام کھلا خط
منڈی بہاوالدین کو سب سے زیادہ خطرہ اس وقت منشیات فروشوں ان کے سہولت کاروں اور ان کے کارندے صحافیوں سے ہے منڈی بہاؤالدین کے باسیو آج میں ساجد حسین کھوکھر ڈی پی او منڈی بہاؤالدین کو کچھ گزارشات کرنا چاہتا ہوں آپ بھی میرے ساتھ رہیں جب بھی کسی منشیات کے خلاف خلاف کسی ملازم نے کسی تھانے دار نے یا کسی بڑے منشیات فروش کے خلاف کوئی بڑی کارروائی کی تو اس کے خلاف محکمانہ کاروائیاں شروع ہو جاتی ہیں ایسا کیوں ہے تھانہ سٹی کے اہلکاروں نے ضلFeaع کےسب سے بڑے منشیات ڈیلر ذولفقار عرف جھلو کے گھر پر ریڈ کیا لاکھوں روپے کی شراب اور لاکھوں روپے برآمد کیے پکڑنے والے ایس ایچ او سب انسپکٹر اظہر عباس تارڑ کو کھڈے لائن لگا دیا گیا مختلف بہانے بناکر کر اس کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ ایک ظلم ہے اور ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے اور دوسرے ملازم آج بھی کوٹ کچہری اور آر پی او دفتر انکوائریوں کے نام پر پر سزا بھگت رہے ہیں تصدیق کامران ڈار الیاس شاہ سے کر سکتے ہیں بچاروں کی اتنی تنخواہیں نہیں جتنے وہ انکوائریوں کے آنے جانے اور کورٹ کچہری میں لگا دیتے ہیں پھر ایک دفعہ شہر کے ایک مشہور منشیات فروش کو پکڑنے پر کامران ڈار کو بھی ٹرانسفر کر دیا گیا اور وہ بچارا کئی مہینے ذلیل و خوار ہوتا رہا کچھ ماہ قبل تھانہ میانہ گوندل میں منشیات کی بڑی کھیپ پکڑنے پر ایس ایچ او کو ضلع بدر ہونا پڑااور ماتحت ملازم ابھی تک ذلیل ہو رہے ہیں کیا آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جب بھی کسی نے بڑے منشیات فروش کے خلاف مقدمہ درج کیا یا کارروائی کی اس کے خلاف دوسرے دن ہی محکمانہ کاروائی شروع ہوگی یا منشیات فروشوں نے اسے انکوائریوں کے چکر میں ڈال کر اس کو ذلیل کیا ایسے بہت سارے واقعات ہیں جو میں آپ کو بتا سکتا ہوں دکھا سکتا ہوں اور سنا بھی سکتا ہوں لیکن اب اس تازہ واقعہ سنیں ساجد عرف ساجو مشہور زمانہ کروڑ پتی ڈیلر کورنگے ہاتھوں پکڑنے والے دونوں ملازم محرر عادل ڈار اور مزمل حسین کلوز لائن کر دیا گیا مزمل حسین ایک ایسا پولیس ملازم ہے جو اس شہر کے تمام جرائم پیشہ لوگوں کو جانتا ہے اور وہ کارروائیاں کرتا ہے اور وہ جس تھانے میں جاتا ہے کام کرتا ہے اور وہ کئی دفعہ قبحہ خانوں پر ریڈ کے چکر میں معطل ہوا سزا ملی اور ذلیل ہوتا رہا موجودہ ڈی پی او نے اسے تین یا چار دفعہ سرٹیفکیٹ سے نوازا اور نقد انعام بھی دیا اس دفعہ پھر بد نام زمانہ ساجد ساجو کو پکڑنے کی سزا کے طور پر کلوز لائن ہوا اور ابھی تک کلوز لائن ہے اب انکوائریاں بھگتے گا سزا ہوگی اور ان کا ایک ساتھی احسان بٹ بھی اس دفعہ رگڑا گیا میراڈی پی او منڈی بہاوالدین سے سوال ہے کیا وہ پھر اس کو پکڑنے میں اپنا کردار ادا کرے گا اس شہر میں صحافت قبضہ مافیا منشیات فروشوں بھتہ خوروں کے اشاروں پر ناچتی ہے اور افسران کو بھی اپنے قصیدےاور تعریفیں سننے کی عادت پڑ چکی ہے اس لیے وہ افسران کے آس پاس آپ کو نظر آئیں گے اور ہمارے جیسے لوگوں کو پہلے ڈرایا جاتا ہے پھر خریدنے کی کوشش کی جاتی ہے اور آخری کوشش بد نام کیا جاتا ہے اور پھر ڈان بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے اب آتا ہوں اصل بات کی طرف میں نے منشیات فروشوں قبضہ مافیا کے خلاف اپنی صحافت کا آغاز کیا تو ہر ادارے کے سربراہ نے اپنی اپنی مدعیت میں میرے خلاف مقدمہ درج کروایا سنگین مقدمات کا بھی سامنا کیا لیکن کبھی ڈرا نہیں کبھی جھکا نہیں میری فیملی کو بھی ٹارگٹ کیا گیا لیکن میں ثابت قدم رہا اب کوشش کرتا ہوں دلیرانہ صحافت کی بجائے مثبت صحافت کی جائے لیکن جب کسی پولیس والے پر ظلم ہوتا ہے کسی مظللوم کی بات نہیں سنی جاتی پھر قلم باغی ہو جاتا ہے ہم زندہ ضمیر لوگ ہیں وہ نہیں کر سکتے جو آج کل آپ سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں اب تو حد ہی ہوگئی اب ایک اور ڈان منشیات کے سب سے بڑے ڈیلر شہباز ریاض کے خلاف جس ملازم نے صحافی نے کچھ کرنے کی کوشش کی یا تو اس کو اس نے خرید لیا گیا یا ذلیل کر دیااس کے خلاف مہم شروع کر دی کئی ملازم بد نام زمانہ منشیات فروش شہباز ریاض کو پکڑنے والے بھی ذلیل و خوار ہوتے ہیں ان لوگوں کے سہولت کار بہت ہیں سہولت کار غیر ملکی جعلی فیس بک اکاؤنٹ بنا کر دھمکیاں دیتے ہیں بد نام کرتے ہیں ہیں اور ان جرائم پیشہ لوگوں کے ٹکڑوں پر پلنے والے صحافی ان کے سہولت کار اور ان منشیات فروشوں کے تانے بانے ڈی پی او دفتر سے باہر نہیں نکلتے ان لوگوں کے سہولت کار ڈی پی او ساجد حسین کھوکھر کے آس پاس نظر آئیں گے جنہوں نے شرافت کا لبادہ اوڑھ کر انت مچا رکھی ہے محکمہ کے خلاف خبریں لگا کر پھر پھر اس پر مرہم پٹی کر کے افسران کو بے وقوف بنا رکھا ہے جس پر جلد ایسے انکشاف اور ایسے ثبوت پیش کروں گا نوکری سے فارغ ہونا پڑے گا ابھی ایک ہفتے پہلے منشیات فروش شہباز ریاض موچی نے مجھ پر ایک رٹ پٹیشن دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ منشیات کے خلاف شہزاد حسن چوہدری خبریں لگاتا ہے اور پولیس والے مجھے پکڑ لیتے ہیں مطلب ہمارا جرم منشیات فروشوں کے خلاف خبر یں لگانا بتایا گیا ہے خیر میرے گھر میں تو تین وکیل ہیں جس کی وجہ سے میں مالی خسارے سے بچ جاتا ہوں انکوائریوں سے میں بھی محفوظ نہیں اور ایک ملازم نے نام ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ شہباز ریاض موچی کی بیوی پر منشیات کا مقدمہ درج کرنے والے ملازم شہباز ریاض سے معافیاں مانگتے رہے اور کہتے رہے ہمارے خلاف انکوائری نا لگوانا ہم آج کے بعد آپ کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کریں گے یہ محکمے کے منہ پر تماچہ نہیں تو کیا ہے کیا یہ ظلم نہیں ذرائع نے بتایا ہے کہ زولفقارجھلو کے خلاف سٹی پولیس نے کاروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے تھانہ میانہ گوندل میں مقدمہ درج کرنا پڑا تھانہ میانہ گوندل ایسا مقام ہے جہاں سے منشیات پورے ضلع میں آتی ہے ذوالفقار جھلو کی تمام منشیات کو شہر میں داخل ہونے سے پہلے ہی پکڑ لیا گیا بات لمبی ہو گئی پورا خط پھر کبھی لکھوں گا خیر میرے خلاف پٹیشن خارج ہوگئی میں تو صاحب حثیت ہوں وکیل کر سکتا ہوں آنے جانے کا کرایہ بھی ہے انکوائریوں کا سامنا بھی کر سکتا ہوں لیکن پولیس ملازم اپنی تنخواہ میں اپنے بال بچے اور گھر والوں کا پیٹ پالیں یا انکوائریوں پر آنے جانے پر خرچ کریں آپ سے گزارش ہے جو ملازم ان منشیات فروشوں کو پکڑتے ہیں ان کو انعام بے شک نا دیں لیکن عادل ڈار مزمل کامران ڈار احسان بٹ الیاس شاہ جیسے ملازموں کی چھوٹی موٹی غلطیوں سے درگزر کرتے ہوئے ان کے بڑے بڑے کارناموں کی فائلیں نکال کر دیکھیں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیوں کے پیچھے کام کرنے والے ملازموں کی حوصلہ افضائی کریں پالنے والا صدقے آل محمد کے آپ کے رتبے اور منصب میں اضافہ فرمائے آپ کے دل میں سائلین کے لیے رحم اور آپ کو انصاف کرنے کی ہمت اور توفیق دے
شہزاد حسن چوہدری
ایڈیٹر انچیف رٹ نیوز نیٹ ورک
چیئرمین ڈسٹرکٹ پریس کلب منڈی بہاوالدین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں