61

آپ تھوڑی دیر کے لیے یہ بھول جائیں کہ بلاول بھٹو بھارت گئے تھے ۔تفصیل کے دیے گئے لنک پر کلک کریں

‏آپ تھوڑی دیر کے لیے یہ بھول جائیں کہ بلاول بھٹو بھارت گئے تھے ۔
آپ صرف یہ یاد رکھیں کہ پاکستان کا وزیر خارجہ چین اور روس کی بنائی گئی تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے انڈیا گیا تھا ۔
اب وہ جانے سے پہلے مودی کو ” گجرات کا قصائی ” کہہ کے جاتا ہے۔ انڈیا سے اسے قتل کی دھمکیاں ملتی ہیں ۔وہاں اپنے خطاب اور انٹرویوز میں کشمیر ، کلبھوشن ، سمجھوتہ ایکسپریس ، یو این اؤ قرارداد،ریاستی دہشت گردی ، ہر موضوع پہ کھل کے بات کرتا ہے ۔
ڈپلومیٹک سمائل کے ساتھ راج دیپ سر دسائی کو انٹرویو دیتا ہے ( جو کہ یقینا آپ نے نہیں دیکھا ہو گا ) جس کے چینل کی پچاس کروڑلوگوں تک ریچ ہے ۔
ہر سوال پہ اتنے سینئر اینکر کی کلاس لیتا ہے۔
پاکستان کا دفاع کرتا ہے ۔انڈین عوام اور سپر پاورز کے وفود کے سامنے اپنا اور کشمیر کا مقدمہ لڑتا ہے ۔
پھر بھارتی وزیر خارجہ تب بکواس کرتا ہے جب آپ کا وزیر خارجہ واپسی کی فلائٹ میں ہوتا ہے۔آپ کا وزیر خارجہ ائیرپورٹ پہ اترتے ہی جواب دیتا ہے ۔

چھوڑیں کہ وہ بلاول بھٹو تھا ۔
اور کیا مودی کو چپیڑیں کرا کے آتا
آپ ذرا صاف نیت سے پاکستان کے وزیر خارجہ کی پرفارمنس دیکھیں
اور کچھ انٹرویوز دیکھ لیں ۔۔۔۔کچھ اخبارات پڑھ لیں پلیز ۔۔۔۔۔اور نہیں تو انڈیا ٹوڈے کے ساتھ وزیر خارجہ کا انٹرویو دیکھ لیں ۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں