179

تلخیاں. کیا اکتوبر میں حالات ٹھیک ہو جائیں گے؟ شاہد عمران جوئیہ

تلخیاں.
کیا اکتوبر میں حالات ٹھیک ہو جائیں گے؟
شاہد عمران جوئیہ
حکومت اس وقت مختلف حیلے بہانوں کے ذریعے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کی طرف سے پنجاب میں دی گئی انتخابات کی تاریخ 14مئی کو ٹالنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر وہ بدستور اس میں ناکام نظر آرہی ہے۔ وہ اس کام کے لیے ناصرف میڈیا پر عدلیہ کے خلاف پراپیگنڈہ کر رہی ہے بلکہ اس کے لیے قومی اسمبلی کو بھی استعمال میں لا رہی ہے۔ جیسے گزشتہ روز قومی اسمبلی نے پنجاب میں عام انتخابات ازخود نوٹس کیس کے حوالے سے قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا کہ تین رکنی بنچ کے فیصلے کو پارلیمان مسترد کرتی ہے اور آئین و قانون کے مطابق اکثریتی بنچ کے فیصلے کو نافذ العمل قرار دیتی ہے…. ایوان سیاسی معاملات میں بے جا عدالتی مداخلت پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے….اکثریت پر اقلیتی رائے مسلط کی گئی…. ایوان ملک میں سیاسی و معاشی استحکام کیلئے آئین و قانون میں درج طریقہ کار کے عین مطابق ملک بھر میں ایک ہی وقت انتخابات کے انعقاد کو ہی تمام مسائل کا حل سمجھتا ہے….قرارداد میں وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اس کے خلاف آئین و قانون فیصلے پر عملدرآمد نہ کریں…. جبکہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ سے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔وغیرہ۔ اس کے علاوہ اندریں خبریں یہ بھی ہیں کہ حکومت تین ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔ اس کے لیے حکومت نے اپنے ماہرین قانون کی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔اور کہا گیا ہے کہ وہ اپنا کام 24 گھنٹوں میں مکمل کریں۔ کمیٹی اُن بنیادوں پر کام کر رہی ہے جن کے تحت یہ ریفرنس دائر کیا جائے گا۔اور اس حوالے سے پی ڈی ایم کی سیاسی سطح پر فیصلہ بھی ہو چکا ہے۔ جبکہ ایک اور خبر کے ذریعے آگاہ کرتا چلوں کہ حکومت قومی سلامتی کمیٹی کو اس حوالے سے اعتماد میں لے گی کہ جلد ہی آئی ایم ایف کے ساتھ اگلے قرضوں کا معاہدہ ہو جائے گا جس کے بعد مہنگائی قابو میں ہوگی اور ہم الیکشن میں جانے کی پوزیشن میں ہوں گے، لیکن ابھی ہم پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اور اس سلسلے میں قومی سلامتی کمیٹی کا 14واں اجلاس آخری خبریں آنے تک شروع ہو بھی چکا ہے۔
لہٰذاسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اکتوبر میں یہ تمام حالات ٹھیک ہو جائیںگے؟ رہی بات آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی تو یہ معاہدہ ابھی تک سٹاف لیول پر ہی منظور نہیں کروایا جا سکا تو سربراہی سطح پر کیسے Approveہوگا؟ اور اس سلسلے میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 10اپریل کو دورہ امریکا بھی کرنا تھا، جسے آخری اطلاعات آنے تک منسوخ کردیا گیا ہے۔ یہ دورہ شاید اسی لیے منسوخ کیا گیا ہے کہ حکومت کو ابھی بھی یقین ہے کہ اُس نے آئی ایم ایف کی شرائط پوری نہیں کیں۔ اور یہ شرائط ہیں کیا؟ بادی النظر میں یہ شرائط بہت سادہ سی ہیں، جو شاید ہر ملک کی ضرورت ہے ، لیکن ہم ہر چیز کے بکھیڑے کرنے میں ماہر ہیں اس لیے ہم سے یہ قطعاََ پوری نہیں ہورہیں۔ اس پر اگلے کسی کالم میں نظرریسرچ سے بھرپور کالم پیش کروں گا ۔ مگر فی الوقت ہم 14مئی اور 8اکتوبر میں پھنسے ہوئے ہیں۔
جس کے لیے سیاستدان اور عدلیہ آپس میں دست وگریباں ہیں۔ یہ بھی کسی کی نظر میں کوئی مسئلہ نہیں لگتا۔ سیاست سے اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے۔ عدلیہ کی تقسیم واضح نظر آرہی ہے۔ اس کی وجہ کچھ کا جھکاﺅ مخصوص جماعت کی طرف محسوس ہوتا ہے، دوسری طرف قانون شکنی اور زور زبردستی سے اپنے مطالبات منوانے کی کوششیں کسی سے پوشیدہ نہیںہیں، اس کے باوجود ابھی تک کسی کوسزا نہ ہوسکی۔ہر طرف انا اور ضد کی دیواریں کھڑی کردی گئی ہیں۔شاید حکومت یہ سب کچھ جان بوجھ کر رہی ہے ورنہ تو دنیا اس وقت پاکستان میں امن و امان کے حوالے سے گواہ بنی ہوئی ہے۔ لہٰذاسوال یہ ہے کہ اگر الیکشن اکتوبر میں ہی ہوتے ہیں تو اس سے حکومتی اتحاد کو کیا ملے گا؟ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہر روز 16 سے 18ہزار نیا ووٹر رجسٹر ہو رہا ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جو ووٹر کی اہلیت کی عمر کو پہنچ رہے ہیں اور ان کا ووٹ رجسٹر ہو رہا ہے۔ اکتوبر کے اختتام تک یہ 210 دن بنتے ہیں۔۔ ان 210 دنوں میں 37 لاکھ سے زائد ووٹر ز کا اندراج ہو چکا ہو گا۔ سماجیات کے جو دو چار ماہرین ہمارے ہاں دستیاب ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان نئے ووٹرزکی غالب اکثریت کا جھکاﺅ تحریک انصاف کی طرف ہے۔ یعنی الیکشن میں جتنی تاخیر ہو گی ، تحریک انصاف کے ووٹر میں اتنا ہی اضافہ ہو گا۔
پی ڈی ایم اور اس کے اتحادی یقینا ماہرین کی اس رائے سے اتفاق نہیں کریں گے۔ مجھے بھی اس رائے پر کوئی اصرار نہیں ہے۔یہ درست بھی ہو سکتی ہے اور یہ غلط بھی ہو سکتی ہے۔لیکن ایک اور سوال تو پوچھا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے پاس ایسی کون سی چیز ہے جو ان نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرے۔ کوئی نعرہ ؟ کوئی رومان ؟ کوئی سچ ؟ کوئی جھوٹ؟ کوئی وعدہ؟ کوئی ایک چیز ایسی ہے تو بتا دیجیے؟ نوجوان ووٹر کی دنیا مختلف ہے۔ یہ اس زمانے کا ووٹر نہیں ہے جب دو اخبار اور ایک پی ٹی وی ہوا کرتا تھا اور معلومات کے ذرائع ادھورے تھے۔ یہ ڈیجیٹل دور کا ووٹر ہے۔اس کے لیپ ٹاپ اور موبائل فون میں معلومات کے ساتھ ساتھ حریت فکر کا نیا احساس بھی ہے۔خبر ایک لمحے میں اس تک پہنچ رہی ہے اور وہ خود اب تجزیہ کار ہے۔ اسے ابلاغ کے مواقع میسر ہیں۔اس بدلتے دور کے اپنے سماجی اور نفسیاتی تقاضے ہیں۔یہ ووٹر کاٹن کے کڑکتے رعونت آمیز پیرہن اور مونچھوں سے لپٹی جاگیردارانہ رعونت سے بے زار ہے۔روایتی سیاست کے طور طریقے اسے مائل نہیں کر سکتے۔ یوں سمجھیں کہ سیاست کے پرانے فیشن بدل چکے۔اب بچے غیر سیاسی نہیں رہے۔ بیٹیاں ، بیویاں اور مائیں تک سیاسی ہوچکی ہیں۔
سیاست اب ڈیروں ، بیٹھکوں ، جلسوں اور ڈرائنگ روموں تک محدود نہیں رہی یہ اب ڈائننگ ٹیبل تک آ گئی ہے۔ اس بدلتے سیاسی میں رجال رفتہ کہاں کھڑے ہیں؟ کیا مسلم لیگ کے نواز شریف ، شہباز شریف ، حمزہ شہباز یا مریم نواز کے پاس ایسا کوئی پروگرام ہے،جس میں یہ نوجوان کشش محسوس کریں؟ کیا یہ نوجوان جناب آصف زرداری کی طرف مائل ہوں گے؟ کیا بلاول کے پاس کوئی ایک ایسا نعرہ ہے جس میں کسی پڑھے لکھے جوان کی کئی دلچسپی ہو؟ کیا یہ نیا ووٹر مولانا فضل الرحمن کی سیاسی بصیرت سے متاثر ہو کر پی ڈی ایم میں آئے گا یا مولانا اسعد محمد کے جوہر خطابت کا قتیل ہو جائے گا؟ شعور کا یہ عالم ہے کہ لاہور کی ایم پی اے ٹویٹ کرتی ہیں نوجوانو! تم میں سے کون مریم نواز سے ملاقات کرنا چاہتا ہے۔ نام رجسٹر کرائیں اور قائد سے ملیں۔
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے آ ج کے جدید تعلیمی اداروں کے نوجوان اس طرز خوشامد سے متاثر ہوسکتے ہیں؟یا پھر یہ نوجوان وزیر تعلیم رانا تنویر کے علمی و فکری انداز گفتگو سے متاثر ہو جائیں گے کہ معلوم انسانی تاریخ میں ایسا کوئی وزیر تعلیم نہیں ہے جو تعلیمی اداروں کے کانووکیشن سے لے کر پارلیمان تک گالی دینے کے فن میں ایک جیسی مہارت رکھتا ہو۔ علم و فضل تحریک انصاف کے پاس بھی نہیں۔ مگر اسے معلوم ہے نوجوان ووٹر کو جوڑے رکھنے کا آسان ترین طریقہ ہیجان اور جذباتیت ہے اور اس فن کو اس نے کمال تک پہنچادیا ہے۔ ہیجان کلٹ اور نفرت کوجنم دیتا ہے اور یہ سستا اور موثر ترین سیاسی زاد راہ ہے۔ نہ کوئی سوال اٹھتا ہے نہ کوئی محاسبہ ہوتا ہے ، اندھی وابستگی ہے اور اندھی نفرت۔ عمران خان کے ساتھ نوجوانوں کا ایک رومان بھی ہے۔ ووہ بہت بڑا کرکٹر رہا ہے۔ کھیل کی دنیا میں اس کی حیثیت ہیرو کی تھی۔ان کے رفقائے کار بھلے مخدوم اور چودھری ہوں لیکن عمران کی شکل میں انہیں غیر روایتی رہنما نظر آتا ہے۔جو روایتی جاگیردار نہیں ہے ، جو وڈیرا نہیں ہے ، جس کی سیاست اس کے خاندان کی جاگیر نہیں ہے۔نوجوان جو روایتی سیاسست کے کردار ہی نہیں اس کے حلیے سے بھی بے زار ہے وہ عمران کے ساتھ کھڑا ہے۔ سوشل میڈیا اس کا ایک ثبوت ہے۔ سوشل میڈیا پر اگر عام نوجوان کسی کا مقدمہ لڑ رہا ہے تو وہ صرف عمران خان ہے۔اور یہ آج بھی لڑ رہا ہے ، اور یقینا اکتوبر میں بھی لڑ رہا ہوگا!
رہی بات اکتوبر میں مہنگائی کے ختم ہونے کی تو اسٹیٹ بینک نے شرح سود بڑھا کر 21فیصد کر دیا ہے۔ جبکہ یہ نارمل ممالک میں 4فیصد سے زیادہ نہیں ہوتا۔ پاکستان میں بھی جنوری 2018 ءمیں یہ شرح صرف چھ فی صد تھی لیکن دس ماہ بعد مئی میں 12.25 فی صد ہوچکی تھی جبکہ موجودہ دور حکومت کے ایک سال میں 13.25 سے بڑھ کر 21 فی صد تک جاپہنچی ہے۔جبکہ مجموعی معاشی سرگرمی بری طرح متاثر ہوئی ہے، یوں قومی پیداوار میں کمی اور بے روزگاری میں اضافے کا سلسلہ بڑھتا چلا جارہا ہے۔تاہم شرح سود میں مسلسل اضافے کے باوجود بظاہر اس کے مثبت نتائج عنقا ہیں‘ زری کمیٹی کے مطابق مارچ 2023ءمیں مہنگائی مزید بڑھ کر 35.4فیصد ہوگئی ہے،توازنِ ادائیگی بدستور دباﺅ میں ہے، زرِمبادلہ کے ذخائر اب بھی پست سطح پر ہیں۔ ایسے میں مجھے کوئی بتا دے کہ اکتوبر تک حالات بہتر ہو سکتے ہیں؟
لہٰذاحکومت ہوش کے ناخن لے اور حیلے بہانوں کو درمیان میں رکھنے کے بجائے انتخابات کروا دے اور اقتدار سے جان چھڑائے،اور یہ عقل کی بات ہے،،، بے عقلی بات یہ ہے کہ آپ اقتدار سے چپکے رہیں اور ملک کا مزید بیڑہ غرق کریں۔ اور ویسے بھی اگر پی ڈی ایم میں تھوڑی سی بھی عقل ہوتی تو وہ عمران خان کو حکومت مکمل کرنے دیتی، لیکن اقتدار کے بھوکے لوگ اپنی قبر آپ کھود چکے ہیں۔ لہٰذااگر یہ عمران خان سے واقعی جان چھڑانا چاہتے ہیں، یا اُس کے خلاف کوئی مناسب حکمت عملی بنانا چاہتے ہیں تو اُسے حکومت دے دیں، کیوں کہ جو انہوں نے مسائل کھڑے کر دیے ہیں، اُس میں نظر نہیں آتا کہ عمران خان بھی ان مسائل کا حل نکال سکے گا۔
بہرکیف ریاستی اداروں کوبھی سوچنا چاہئے کہ آخر ریاست میں ہوکیا رہا ہے۔ آئین شکنی کو سیاست کانام دیاجارہا ہے۔ آئین وقانون کو ایک طرف رکھ کر ریاست کو خطرے سے دو چار کرنے، ملک میں فسادات پھیلانے اور خانہ جنگی کی طرف لے جانے کی کوششیں کرنیوالوں کو کب تک یوں ہی ڈھیل دی جائے گی۔ اور ویسے بھی عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے وہ شاید ہی اکتوبر تک انتظار کریں۔ عید کے بعد یقینا دمادم مست قلندر ضرور ہوگا خواہ وہ الیکشن کے لیے ہو یا الیکشن ملتوی ہونے پر ہو! لیکن ہوگا ضرور !

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں