124

بھتیجے دانیال کو سالگرہ مبارک ہو ۔۔۔۔۔محبتیں جب شمار کرنا

لاکھوں کروڑوں درود آپ پر اور آپ کی آل پر رشتے ناطے ضروری نہیں خون کے ہوں دنیا میں آنے کے بعد جو رشتے انسان اپنی مرضی سےخود بناتا ہے وہ خون کے رشتوں سے زیادہ وفادار اور محبت کرنے والے مل جائیں تو دنیا جنت بن جاتی ہے تاریخ گواہ ہے اور تجربے نے ثابت کیا ہے کہ ہمیشہ تخت و تاج مال و زر کے لئے بھائی نے بھائی کو باپ نے بیٹے کو اور بیٹے نے باپ کو دنیا سے رخصت کیا رسمو رواج اور جائیدادوں کے چکر میں لوگوں نے ایک دوسرے کے گریبان کو ایسے پکڑا کہ جگ نے دیکھا لوگ رشتوں اور جائیداد کے چکر میں ایک دوسرے کی عزت کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں لیکن کچھ رشتے دوست ایسے ہوتے ہیں جن کے احساس سے آپ محبت عزت اور تحفظ محسوس کرتے ہیں دانیال محمود رانجھا ایڈووکیٹ انتہائی لائق اور پروفیشنل وکیل ہیں میں نے اس عمر کے وکیل کسی شخص کو لاء کے بارے میں اتنی معلومات اور علم رکھتے نہیں دیکھا دانیال محمود رانجھا سدا بہار صدر نامور قانون دان اور مشہور و معروف لینڈ لارڈ میرے بڑے بھائی دوست محسن دکھ سکھ غم اور خوشی کے ساتھی جناب محمود پرویز رانجھا کے صاحبزادے ہیں ان اس سے میرا تعلق اس وقت کا ہے جب میں ساتویں یا آٹھویں کلاس کا سٹوڈنٹ تھا آج تک جب بھی کسی تکلیف میں ان کو آواز دی تو ایسے محسوس ہوا جیسے وہ ہمارے میرے پاس ہی ہیں میں نے دشمنی اور بندوقوں کے سائے میں پرورش پائی ابھی میں چھوٹا ہی تھا تو میرے والد صاحب کو میرے چاچو کے قتل ہونے کے بعد ملک چھوڑنا پڑا مجھے محمود پرویز رانجھا جیسے رہنما محبت کرنے والے بھائی دوست مل گئے اور یہ رشتہ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو رہا ہے اور چل رہا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ میرے بچے عیسیٰ حسن چوہدری اور سلار حسن چوہدری اس رشتے کو نبھائیں گے دانیال محمد رانجھا کے لیے
تیری حیات کا ہر لمحہ شادماں گزرے
بہار سجدہ کرے تو جہاں جہاں گزرے
خدا نصیب کرے تم کو جہاں کی خوشیاں
تو سرخرو ہو جب بھی کوئی انتہا گزرے
اس فیملی سے آج بھی وہی تعلق وہی محبت وہی عزت ان کی نگاہوں میں میرے لیے میری فیملی کے لیے ہے جو آج سے بیس سال پہلے تھی ایک دفعہ مجھے یاد ہے
‏مت پڑھا کرو اتنی غور سے میری تحریروں کو
کچھ یاد رہ گیا تو مجھے بھول نہیں پاؤ گے
میں محمود پرویز رانجھا تصور عباس گوندل اور اس وقت کے صدر جناب فاروق لغاری صاحب کے پاس ان کے گھر چوٹی زریں ان سے ملنے گئے اور محمود پرویز رانجھا صاحب نے ایک جوتا گفٹ لے کر دیا جو آج بھی میرے پاس ہے اور جی ایم ٹیلر سے میری سالگرہ پر مجھے کپڑے لے کر دیے بات کپڑوں اور جوتی کی نہیں گفٹ چھوٹا ہو یا بڑا گفٹ ہوتا سوچتا ہوں آج میں بھی اپنے بھائی کو کیا گفٹ دوں میرے خیال سے بقول پروین شاکر دعا سب سے بڑا گفٹ ہوتا ہے اور دعا ایسا تحفہ ہے جسکا کوئی متبادل نہیں چھوٹے بھائی دانیال محمود رانجھا کو پالنے والا صدقے آل محمد کے اپنی حفظ و امان میں رکھے دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے دلیر نوجوان ہے اس لیے دعاؤں کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے مجھ پر بھی ویسے مجھ پر بہت مہربانیاں ہیں لیکن ایک بہت بڑا احسان بھی ہے جو شاید کبھی اتار نہ سکوں گا دعا کرتا ہوں مولا اسےحسد سے بچائے آج میرے بھائی کم بھتیجے کی سالگرہ کا دن ہے خوشی کی اس گھڑی میں دعا ہے رب جہاں سے میرے چھوٹے بھائی دانیال محمود رانجھا ایڈووکیٹ کو مزید کامیابیوں اور کامرانیوں سے نوازے صحت والی لمبی زندگی عطا کرے مولا صدقے پنجتن پاک کے اس نوجوان کو کو اپنے باپ محمود پرویز رانجھا کی طرح دوستی رشتے نبھانے کی ہمت اور توفیق دے
شہزاد حسن چوہدری
ایڈیٹر انچیف رٹ نیوز نیٹ ورک
صدر سیما ویلفیئر فاونڈیشن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں