205

کنگ روڈ سے ست سرا اور کالج چوک سے ریلوے پھاٹک پٹرول پمپ تک روڈ کی تعمیر میں کرپشن کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

کنگ روڈ سے سات سرا اور کالج چوک سے ریلوے پھاٹک پٹرول پمپ تک روڈ کی تعمیر میں کرپشن کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے


ریت کی جگہ مٹی پتھر کی جگہ پر پرانا مٹیریل موقع سے زیادہ مٹیریل اکٹھا کیا گیا کاغذات میں کم ظاہر کیا جارہا ہے
منڈی بہاؤالدین ( ندیم ہاکی آلا) لوگ کہتے ہیں کہ میڈیا میں بہت طاقت ہے میڈیا پر خبر چلنے سے لوگوں کو انصاف ملتا ہے کرپشن سے نجات ملتی ہے مسائل حل ہو جاتے ہیں لیکن منڈی بہاولدین میں میڈیا کی کوئی ویلیو نہیں ہر روز میڈیا پر خبر لگتی ہیں روڈ کی سست روی اور کرپشن پر بات ہوتی ہے لیکن کوئی ایکشن لینے کے لیے تیار نہیں لیکن اب ایسا نہیں ہوگا کیس روڈ کی تعمیر میں ہونے والی کرپشن پر ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے پہلے تو تو چند کلومیٹر کی سڑک کے لیے دو کمپنیوں کو ٹھکرا دیا گیا اور وہ بھی شہر سے باہر کی کمپنیوں کا انتخاب کیا تاکہ کمیشن مافیا نے اپنی من پسند کے دوران کو ٹھیکہ دے کر عوام کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا پھر سڑک کی تعمیر کے لیے ارتھ ورک کرنے کے بعد تین فٹ ریت ڈال کر اوپر استعمال ہوا مٹیریل جو سڑک سے اٹھایا گیا ڈالنا تھا لیکن ریت ڈالنے کی بجائے تھوڑی سی مٹی ڈال کر استعمال شدہ مٹریل لک سمیت بہ جا رہا ہے اس سے گیس بنتی ہے اور یہ روڈ چند ہی دنوں میں دوبارہ تباہ و برباد ہو جائے گا اس روڈ کی تعمیر پر مامور سرکاری وڈیروں میں سے ایک سیف اللہ تارڑ جس کو نہ روڈ کی میرمنٹ کا پتا ہے نہ ٹائم فریم کا پتا ہے ہے اور نہ ہی ٹھیکیدار کے بارے میں کچھ معلوم ہے ہے اس سے اندازہ لگا لیں کہ یہ روڈ تعمیر کرنے میں چیک اینڈ بیلنس رکھنے والے لوگ کس قدر نالائق اور رقم ہیں پانچ پرسنٹ کمشن سیف اللہ تارڑ وصول کر چکے ہیں اور اوپر والے افسران بھی اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں اور موصوف کی ٹھیکدارن کی ملی بھگت سے اٹھایا گیا مٹیریل اور کاغذات میں کا مظاہرہ کرنے میں مصروف ہیں رٹ نیوز کی سروے ٹیم نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا معلومات کی رسائی کے لیے رابطہ کیا تو سیف اللہ تارڑ فرماتے ہیں ہم آپ کو کوئی بھی معلومات دینے کے پابند نہیں ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ انفارمیشن ایکٹ 2014 کے تحت معلومات دینا ان کے فرائض منصبی میں ہے لیکن وہ یہ بات بھی نہیں جانتے کہ یہ پورے ضلع منڈی بہاوالدین کی آمدورفت کا روڈ ہے اس پر کرپشن ان کو کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس لیے چاہیے ہمیں ہائی کورٹ جانا پڑے سپریم کورٹ نہ پڑے ی وزیراعظم شکایت سیل اس کیس میں کرپشن اور ناقص میٹریل کا استعمال نہیں ہونے دیں گے اس کیس کو مثال بنا دیں گے ہم ڈرنے والے ہیں نہ جھکنے والے اور نہ ہی بکنے والے دھمکیاں دینے والے اور سفارشی کرانے والے باز آجائیں ورنہ ان کی دھمکیاں اور سفارشیں بھی عوام کے سامنے رکھ دیں گے
باقی مکمل کرپشن کی کہانی جاننے کے لیے بڑھیں روز نامہ رٹ اور وزٹ کریں ہماری ویب سائٹ رٹ نیوز ڈاٹ کام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں